خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 587 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 587

خطبات طاہر جلد 15 587 خطبہ جمعہ 26 جولائی 1996ء لیکن عجیب بات ہے کہ جب اس لکڑ ہارے کے چونچ ٹکرانے کے مضمون پر آپ غور کریں تو آپ کو یہ بھی تو سوچنا چاہئے کہ اس کی چونچوں کے ٹکرانے سے جو قارعہ پیدا ہوتی ہے وہ چھوٹے چھوٹے ایسے کیڑے مکوڑے بھی جو دماغ کے لحاظ سے یار رکھتے ہی نہیں یا نہایت معمولی دماغ رکھتے ہیں وہ بیدار ہو جاتے ہیں وہ سمجھتے ہیں ہمیں اذن ہے باہر نکلنے کا اور وہ باہر نکل آتے ہیں۔مگر انسان کی کیا حالت ہے کتنی دفعہ خدا کی قارعہ اسے جگاتی ہے کیسے بار بار اس کی چھاتی پر خدا کی طرف سے وہ چوٹیں پڑتی ہیں جو اسے جگانے کے لئے اور خدا تعالیٰ کا شعور بیدار کرنے کے لئے بعض دفعہ ایک ابتلا کے طور پر ماری جاتی ہیں۔کتنے غم ہیں جو چوٹیں مار جاتے ہیں اور کتنی چوٹیں ہیں جو ہمیں بیدار کرتی ہیں؟ یہ ہے سوال۔کیڑے تو اٹھ جاتے ہیں ،سنڈیاں اٹھ جاتی ہیں وہ سمجھتی ہیں کہ ہمیں حکم ہے باہر نکلنے کا مگر انسان اپنی جہالت کے قید خانے میں اسی طرح پڑا رہتا ہے اور آئے دن ہمیں بیدار کرنے کے لئے آسمان سے اور زمین سے بھی نشان ظاہر ہوتے چلے جاتے ہیں۔پس اگر ان نشانوں پر ہم غور کریں تو پھر ہماری نماز زندہ ہوگی پھر ہم خدا کی قسم کھا کر کہہ سکتے ہیں کہ اے خدا ہم گواہی دیتے ہیں کہ تو ایک ہے اور تیرے سوا اور کوئی نہیں۔جہاں بھی رزق دیکھا تیرا ہی دیکھا ہے۔جہاں بھی پناہ پائی تیری ہی پناہ پائی ہے۔نہ تیرے سوا کوئی رازق ہے، نہ تیری پناہ کے سوا کوئی پناہ ہے۔تو ہی ہے جو پالتا ہے تو ہی ہے جو دردوں کو ٹالتا ہے۔تیرے سوا کوئی نہیں ہے اور یہ جو ” نہیں ہے“ کی گواہی ہے یہ وہ گواہی ہے جو ہر روز انسان جھوٹی گواہی دیتا ہے کیونکہ اگر اس کو یقین ہو کہ خدا ہی ہے اور کائنات میں دیکھتا ہے تو خدا ہی دکھائی دیتا ہے، ساری کائنات کا علم گواہ بن جاتا ہے کہ اللہ ایک ہے اور وہی رازق ہے اور وہی پالنے والا ہے، وہی ہر چیز کی پناہ گاہ ہے پھر بھی جب اپنے لئے پنا ہیں ڈھونڈتا ہے تو غیر اللہ کے لئے پنا ہیں ڈھونڈتا ہے۔اپنے لئے جب رازق تلاش کرتا ہے تو جھوٹ کو رازق بناتا ہے اور بد دیانتی کو رازق بناتا ہے۔کسی کا حق تلف کرنے کو رازق بناتا ہے۔تو یہ وہ وجہ ہے کہ قسط کا مضمون میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔قسط کے بغیر گواہی سچی ہو ہی نہیں سکتی۔پس ایک اندرونی انصاف اپنے اندر پیدا کریں جب تک آپ اپنے نفس کے خلاف گواہی دینے پر تیار نہ ہوں اور پورے یقین اور قوت کے ساتھ ہر روز اپنے نفس کو جھوٹا قرار دینے کی طاقت نہ رکھتے ہوں اس وقت تک آپ کا نفس سچ سیکھ ہی نہیں