خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 586
خطبات طاہر جلد 15 586 خطبہ جمعہ 26 جولائی 1996ء ہیں۔Evolution کے ذریعے یعنی ارتقاء کے ذریعے اس پرندے کو کیسے سمجھ آئی کہ تیز رفتار سے میں جب چونچیں ماروں گا تو کیڑے نکلیں گے ورنہ نہیں نکلیں گے اور کتنے لاکھ سال اس ارتقاء کو چاہئے تھے۔اس سے پہلے وہ کیسے زندہ رہتا تھا لیکن صرف یہی بات نہیں وہ حرکت اتنی طاقت ور ہوتی ہے وہ چونچ اس زور سے لگتی ہے کہ سائنس دان کہتے ہیں کہ دماغ پھٹ جائے اس کا اگر اس کا کوئی خدا تعالیٰ نے دفاع مقرر نہ کیا ہو۔پس یہ ایک ہی پرندہ ہے جس کی چونچ اور اس کے دماغ کے درمیان خدا تعالیٰ نے ایک کشن Cushion رکھ دیا ہے اور جب وہ چونچ مارتا ہے تو وہ کشن دیتا ہے اور دماغ کو ٹھوکر سے بچالیتا ہے۔اب آپ دیکھیں کہ کیا کوئی بھی ارتقاء کا نظریہ اس مسئلے کوحل کر سکتا ہے۔اگر زور کی ٹکر مارنا ان کیڑوں کو نکالنے کے لئے ضروری ہے تو دو چار ٹکروں میں ہی وہ پرندہ پاگل ہو کے مر چکا ہوتا اور وہ کشن بنانے میں کتنی دیر لگی اور کون سے ارتقاء کے طبعی تقاضے ہیں جنہوں نے وہ کشن بنایا اس کا Mechanism پیدا کیا۔اس پر آپ غور کریں تو یہی ایک پرندہ انسان کی عقل کو حیرت کے سمندر میں ڈبونے کے لئے کافی ہے اور پھر وہ کس طرح جا کر اپنے بچوں کو یہ خوراک دیتا ہے اور روزانہ اسی پر پل رہا ہے۔کس نے اس کو سکھایا کہ تمہاری غذا کہاں کہاں ہے۔کوئی بھی ایسا پرندہ نہیں جس کو علم نہ ہو کہ میری غذا کہاں ہے اور وہ بچہ جو پہلے دن مثلاً گھوڑے کا بچہ پیدا ہوتا ہے یا ہرن کا بچہ پیدا ہوتا ہے یا بکری کا بچہ پیدا ہوتا ہے وہ اٹھتا ہے اور ماں کے تھن کی طرف دوڑتا ہے اور انسان کا یہ حال ہے کہ اسے سکھائیں بھی تو بسا اوقات وہ سیکھ نہیں سکتا۔بعض بچوں کو دودھ پلانا بڑی مصیبت بن جاتا ہے۔مگر اکثر خدا تعالیٰ کی طرف سے اتنا علم یافتہ ضرور ہوتے ہیں کہ ماں کا دودھ چوسنا ان کو آجاتا ہے۔کیوں آتا ہے؟ کیسے پتا چلتا ہے کہ یہ میری غذا ہے؟ یہ ساری وہ باتیں ہیں جو جب تک دماغ کے اندر کندہ نہ ہوں اس وقت تک انسان کی اپنے رزق تک رسائی ہو نہیں سکتی۔پس رزق کا پیدا ہونا الگ مضمون ہے۔یہ علم کہ یہ میرا رزق ہے یہ ایک الگ مضمون ہے۔ہر وہ پھل یا پھول جو ہمیں دکھائی دیتا ہے ہمیں علم نہیں کہ اس میں غذا کون سی ہے، بڑے لمبے تجربہ کے بعد ہمارا علم کچھ بڑھا ہے لیکن ہر جانور کو پتا ہے کہ فلاں جو پھل ہے میں نے کھایا تو میں اس سے مر جاؤں گا۔فلاں پھول کا رس میرے لئے زہر ثابت ہوگا۔ہر ایک کو اپنی اپنی غذا کا علم ہے اور کیسے حاصل کرنی ہے؟ کیسے اس تک رسائی ہوئی ہے