خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 588
خطبات طاہر جلد 15 588 خطبہ جمعہ 26 جولائی 1996ء سکتا اور یہ تجربے ہر روز بے شمار ہوتے ہیں اور ہرگز یہ ممکن نہیں ہے کہ ہر نماز میں، ہر تشہد کے وقت جب آپ کہیں اشهد ان لا اله الا اللہ تو آپ واقعہ بعض باتوں کو ذہن میں رکھ کر یہ کہیں کہ ہاں ہم نے ایک اور راز پالیا ہے جو تو حید کا راز ہے۔آج ہم نے ایک اور راز دریافت کیا وہ بھی توحید کا راز ہے اور ہر انگلی جو اٹھتی دیکھی اے خداوہ تیری ہی طرف اٹھتی ہے۔یہ وہ گواہی ہے جو تجارب سے حاصل ہوتی ہے، جو مشاہدے سے ملتی ہے اور اس کے سوا اس تشہد کی کوئی بھی حقیقت نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود جب فرماتے ہیں: چشم مست ہر حسیں ہر دم دکھاتی ہے تجھے ہاتھ ہے تیری طرف ہر گیسوئے خم دار کا تو یہ تصور کیوں پیدا ہوا۔یہ تصور ایک عارف باللہ کے ذہن میں آسکتا ہے اور وہ سارا نظم کا مضمون ہی ایسا ہے جو ذاتی مشاہدے اور عرفان کے بغیر (در مشین اردو : 10) ایک شاعر کے دماغ میں آہی نہیں سکتا۔ہر بات پر غور کیا اور کہا کہ ہاں اے خدا ہر انگلی تیری طرف اٹھتی دیکھی ہے ہم نے : ند کو کل دیکھ کر میں سخت بے کل ہو گیا ے کیونکہ کچھ کچھ تھا نشاں اس میں جمال یار کا دو اب یہ گواہی دیتے وقت بھی دیکھیں کیسی احتیاط برتی جارہی ہے ” کچھ (درشین اردو :10) کچھ تھا نشاں اور گواہی سچی ہے۔دنیا کے عاشق جب باتیں کرتے ہیں اور چاند کے حوالے سے کریں یا سورج کے حوالے سے تو ایسا مبالغہ کرتے ہیں کہ اپنی گواہی کو خود جھوٹا بنادیتے ہیں۔کہتے ہیں چاند کو دیکھا تو اس میں تو کچھ بھی نہیں تھا، پھیکا پڑ گیا تھا، تیرے اس نور کے سوا کوئی نو ر ہے ہی نہیں۔چاند میں کچھ بھی نہیں تھا۔اب دیکھو کتنا بڑا جھوٹ ہے بعض ایسے محبوبوں کی تعریف کر رہے ہیں جو اندھیرے میں دکھائی بھی نہ دیں۔ان میں جگنو جتنی روشنی بھی نہیں ہے مگر چاند کو اس کے مقابل پر پھیکا اور بے معنی اور بے حقیقت دکھاتے ہیں۔اور حضرت مسیح موعود چاند کے نور کا اعتراف کرتے ہیں۔ایک بھی جگہ آپ کے عشق میں مبالغہ نہیں۔ایک بھی جگہ آپ کے عشق میں جھوٹ کی ادنی سی بھی آمیزش نہیں ہے۔تھا تو سہی ” کچھ