خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 562 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 562

خطبات طاہر جلد 15 562 خطبہ جمعہ 19 جولائی 1996ء کتنا احسان ہے کہ اسی میں مجھے آرام اور سکون مل رہا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مهمان نوازی کی لطافتیں آپ دیکھیں تو عقل حیرت میں ڈوب جاتی ہے۔کیسی لطافت تھی کیسی باریکیاں تھیں اس مہمان نوازی کی۔پس وہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے جذبے ہیں جو آسمان سے اب احمدیوں پر فضلوں کی صورت میں نازل ہورہے ہیں اور دنیا میں ایک ایسی جماعت رونما ہوئی ہے جس کے متعلق انسان یقین سے کہہ سکتا ہے کہ دنیا کی کوئی قوم مہمان نوازی میں اس کے پاسنگ کو بھی نہیں پہنچ سکتی۔موسم بدلتے ہیں تکلیفیں آتی ہیں کبھی اچھے موسم کبھی برے موسم کبھی سردیاں زیادہ کبھی گرمیاں زیادہ کبھی آندھی، کبھی جھکڑ چل رہے ہیں مگر احمدی مہمان نوازی پہ کوئی فرق نہیں پڑتا۔وہ ہر بدلتے ہوئے وقت کی تکلیفیں خود اپنے اوپر لیتا ہے اور مہمان کی خدمت میں ہمیشہ، ہمہ وقت مستعد رہتا ہے۔ان روایتوں کو آپ زندہ رکھیں کیونکہ یہ وہ روایتیں ہیں جن کا ذکر حضرت ابراہیم کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اور اللہ تعالیٰ پرانے انبیاء کی باتیں محض عام نصیحتوں کے لئے نہیں بلکہ بعض محبت کے جذبوں کی وجہ سے بھی محفوظ فرماتا ہے اور جن انبیاء سے زیادہ پیار ہے ان کے ذکر میں بسا اوقات محبت کے تذکرے زیادہ چلتے ہیں۔یوں لگتا ہے کہ بات لمبی ہو رہی ہے ضرورت کیا تھی اتنی لمبی بات کی لیکن جب محبت ہو تو پھر باتیں نبی کی جاتی ہیں۔حضرت موسی" کے ساتھ دیکھیں بات ختم ہوئی ایک دفعہ کہ دی لیکن اللہ تعالیٰ اس کو کرتا چلا جاتا ہے کہ اس نے یوں کیا ، پھر اس نے یوں کیا ، پھر اس طرح ڈرا، پھر ہم نے اس طرح بلایا۔وہ پیار کے قصے ہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق بھی اکثر پیار کے طویل نقشے ہیں جو کھینچے گئے ہیں اور اس آیت میں بھی یہی مضمون ہے جو میں نے آپ کے سامنے پڑھ کے سنایا۔خدا کے پیار کی نظر اس پر پڑی ہے اور اللہ تعالیٰ کے پیار کی نظر صرف انبیاء پہ نہیں پڑتی عامتہ الناس کے سلوک پر بھی پڑتی ہے۔آنحضرت ﷺ نے اس کے متعلق بہت سے واقعات میں بعض دفعہ مثالیں دے کر مہمان نوازی کا ذکر فرمایا ہے، بعض دفعہ نصیحتیں کر کے، بعض دفعہ نصیحت پر عمل جس طرح ہوا اس پر خدا تعالیٰ نے جو آپ کو خبریں دیں ان کا ذکر فرما کرمہمان نوازی کی عزت افرائی فرمائی۔یہ واقعہ آپ کو کئی دفعہ سنایا جا چکا ہے مگر بعض واقعات ہیں جن کی لذت کم ہو ہی نہیں سکتی۔جتنی دفعہ چاہیں سنیں وہ زندہ واقعات ہیں اور جس طرح ایک انسان زندہ ہو اور محبوب ہو آپ یہ