خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 563
خطبات طاہر جلد 15 563 خطبہ جمعہ 19 جولائی 1996ء تو نہیں کہتے کہ تم کل بھی آئے تھے ، پرسوں بھی آئے تھے اب پھر کیا کرنے آگئے ہو، وہ جب بھی آتا ہے اچھا لگتا ہے۔تو آنحضرت ﷺ کی زبان سے مہمان نوازی کے پیارے واقعات کبھی پرانے ہو ہی نہیں سکتے کم سے کم میرے دل پہ تو کبھی بھی انہوں نے یہ اثر نہیں ڈالا کہ ہم نے کئی دفعہ سنا ہے اب کیا ضرورت ہے۔پس میں جب تکرار کیا کرتا ہوں تو مجبوراً کرتا ہوں مجھے پتا ہے کہ جس طرح مجھے لطف آ رہا ہے سب کو آئے گا اس لئے ایسی تکرار اچھی لگتی ہے۔یہ واقعہ بھی ویسا ہے جو چاہیں لاکھ بار آپ سنائیں اور سنیں اس کی لذت ختم نہیں ہوسکتی۔بخاری کی حدیث ہے کتاب مناقب الانصار سے باب ويؤثرون على انفسهم ولو كان بهم خصاصتہ وہ اپنے نفس پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں ولو كان بهم خصاصته خواه ان کو خود بھوک کی تنگی مشکلات میں مبتلا کئے ہوئے ہو۔خصاصہ ایسی حالت کو کہتے ہیں جب خرچ کرنے کے لئے کچھ نہ ہو، کچھ دینے کے لئے نہ ہو۔ایسی حالت میں جب کہ خود وہ تنگی محسوس کر رہے ہوں پھر وہ دوسروں پر اپنے آپ کو قربان کر دیتے ہیں۔حضرت ابوھریرہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مسافر حضور ﷺ کی خدمت میں آیا۔آپ نے گھر کہلا بھیجا کہ مہمان کے لئے کھانا بھیجواؤ۔جواب آیا کہ پانی کے سوا گھر میں کچھ نہیں۔اس سے آنحضرتﷺ کے روز مرہ کی زندگی کے حالات کا بھی تصور ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ بہت دیتا تھا لیکن صلى الله جس رفتار سے آتا تھا اسی رفتار سے آپ آگے چلا دیا کرتے تھے۔اس لئے بعض دفعہ ایسا بھی ہوا کہ گھر میں اور کچھ نہیں تھا مگر یہ مطلب نہیں تھا کہ آنحضور نے اپنے اہل وعیال کو بھی ان کی خواہش کے بغیر مشکل میں ڈالتے تھے۔بعض لوگ یہ حدیثیں پیش کر کے یہ تصور باندھتے ہیں، یہ تاثر پیدا کرنے صلى الله کی کوشش کرتے ہیں کہ آنحضور ﷺ اپنے اہل و عیال کو مشکل میں ڈالتے تھے۔یہ درست نہیں ہے۔آپ بے حد خیال فرماتے تھے مگر بعض واقعات بعض ایسے زمانوں میں بھی ہو سکتے ہیں جبکہ بہت زیادہ تنگی کا دور تھا اور بعض مہینوں بلکہ سال ایسے آئے ہیں جبکہ سارے مسلمان بھوک میں مبتلا رہتے تھے اور آنحضرت ملا کیونکہ سب سے زیادہ ایثار کرنے والے تھے اور اس دور میں یقیناً آپ نے اپنی تنگی کے ساتھ اپنے اہل و عیال کو بھی شامل فرمایا مگر ان کے جذبے اور شوق ساتھ ساتھ چلاتے ہوئے ، یہ نہیں کہ ان پر مجبوراً کوئی چیز ٹھونسی گئی ہو۔اس کی بہت سی مثالیں میرے سامنے ہیں مگر اس