خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 540
خطبات طاہر جلد 15 540 خطبہ جمعہ 12 جولائی 1996ء تھا، جلسوں میں شامل ہو کر قریب بیٹھنے کا موقع مل جایا کرتا تھا۔اب تو یہ دُور درشن کے زمانے آگئے ٹیلی ویژن کے ذریعے پھیلے ہوئے خطبات اور تصویروں کے ذریعے دیکھنا یہ دور بدل گیا ہے اور اگر اس دور میں انفرادی طور پر خاندانوں سے تعلق قائم نہ کیا جائے تو ان کے اندروہ گہرا ذاتی رابطہ خلافت سے قائم نہیں ہو سکتا۔وہ جو تعلق ہے دور سے دیکھنے سے یا سننے سے اس میں وہ مضبوطی نہیں جو اس تعلق میں ہوتی ہے جو میں نے بیان کیا ہے اور پھر اگلی نسل کو سنبھالنے کے لئے یہ بہترین ذریعہ ہے کیونکہ چھوٹے بچے جب مل کے جاتے ہیں تو بسا اوقات ان کی طرف سے خطوط ملتے ہیں اور یہ عجیب بات ہے کہ بچے پھر اپنے ماں باپ کو سنبھالتے ہیں اور اگر وہ ٹیلی ویژن کسی اور جگہ لگانا چاہیں تو کہتے ہیں نہیں ہم نے احمدیہ پروگرام دیکھنا ہے اور ملاقات کی یادیں ان کے دلوں پر ہمیشہ کے لئے نقش رہتی ہیں۔تو یہ بے اختیاریاں ہیں ملنا تو ہے بہر حال ملنا ہے مگر ہر ملاقات کو لمبا نہیں کیا جا سکتا اور ہر ملنے والے کی خواہش کو پورا کرنا بھی ممکن نہیں رہا۔ایک اور بات پیش نظر رکھیں کہ ملاقات کوئی ایسا معاملہ نہیں جو انصاف کے دائرے سے تعلق رکھتا ہو، جس میں لازم ہو کہ ہر ملاقات کی خواہش والے کو ملاقات کا وقت دیا جائے۔جو وقت کی مجبوری ہے اس کے علاوہ بھی بعض ذاتی تقاضے ہوتے ہیں۔یہ کہنا درست نہیں کہ اگر ایک کو وقت دیا گیا اور وہ پہلے سال بھی مل چکا تھا اور دوسرے کو اس بناء پہ وقت نہیں دیا گیا کہ وہ پچھلے سال مل گیا تھا تو یہ نا انصافی ہے۔ملاقات ایک ذاتی حق ہے اور قرآن کریم نے اس حق کو تسلیم فرمایا ہے اور قرآن کریم نے اس حق کو ہر مومن کے لئے تسلیم فرمایا ہے۔یہ کیسے ممکن ہے کہ جو حق خدا تعالیٰ ہر مومن کو دے خلیفہ کو اس سے محروم کر دے اور اس پہ لازم ہو جائے کہ ہر ملاقاتی سے ضرور ملے اور اگر خوداس کو خواہش ہو کسی سے ملنے کی تو وہ اس وجہ سے نہ ملے کہ پھر دوسروں کی دلآزاری ہوگی۔یہ تو بالکل ایک غلط بات ہے اور قرآن کریم تو یہ فرماتا ہے کہ اگر تم کسی سے ملنے جاؤ دروازہ کھٹکھٹاؤ، السلام علیکم کہو اگر اجازت ملے تو ملوور نہ بغیر دل پر میل لئے واپس لوٹ جاؤ۔تو ہر شخص کو اگر یہ ملاقات کا حق ذاتی طور پر خدا عطا نہ فرما تا تو ان آیات کے کیا معنی ہیں۔پس اگر میں ذاتی طور پر کسی سے ملتا ہوں تو اس کو بعد میں طعن آمیزی کا ذریعہ بنانے کا کسی کو حق نہیں ہے کیوں ملتا ہوں، اللہ بہتر جانتا ہے۔بعض دفعہ ایسی باتیں ہوتی ہیں کہ بعضوں کے مشورے کی ضرورت پڑتی ہے اور ، اور بھی بہت سے ایسے ملاقات کے