خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 541 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 541

خطبات طاہر جلد 15 541 خطبہ جمعہ 12 جولائی 1996ء اسباب ہیں جن کا اس وقت احاطہ نہیں کیا جا سکتا۔مگر متفرق ضروریات ہیں انسان کی اور ان وجوہات سے ملنا پڑتا ہے۔کسی کو زیادہ وقت دینا پڑتا ہے تو اس میں شکوے کا کوئی حق نہیں۔جن سے ملاقات ہو جاتی ہے وہ چونکہ محض اللہ ہے اس پر بھی شکریے کا محتاج نہیں ہوں۔میں نے بھی محض اللہ کیا ، آپ نے بھی محض اللہ کیا۔نہ میں آپ کا ممنون ، نہ آپ میرے ممنون مگر شکوؤں کا بھی مضمون کوئی نہیں ہے یہاں۔جو نہیں ملنے آتا مجھے کبھی بھی اس سے شکوہ نہیں ہوا۔سرسری ملاقات ہو جائے تو وہ بھی بہت ہے۔جلسوں کے وقت جو ملاقاتیں ہوتی ہیں وہاں بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ ملاقات نہیں ہے۔حالانکہ یہ بھی تو ایک ملاقات ہے اور بڑی اہم ملاقات ہے۔جب سوال و جواب کی مجالس میں ہم اکٹھے بیٹھتے رہے اور بار بار بیٹھتے رہے، ہر ایک کو موقع تھا اٹھ کر سوال کرتا انہوں نے جب اپنی ذاتی باتیں کہنے کی خواہش کا اظہار کیا تو ان کو بھی موقع دیا گیا ہاں آپ کہیں شوق سے، اپنی ضروریات بتائیں۔تو اگر یہ ملاقات نہیں تو پھر اور کیا ہے اور اس ملاقات سے تو بہتر ہے جو ٹیلی ویژن کے ذریعے ہوتی ہے۔وہاں تو یک طرفہ ہے، وہاں ایک طرف سے انسان بات کر سکتا ہے اور دوسری طرف سے ایک بے اختیاری ہے۔تو یہ کہنا کہ ملاقات سب سے نہیں ہوئی یہ بھی غلط ہے۔ہوتی رہی ہے، بار بار ہوتی رہی ہے، رستہ چلتے ہوتی رہی ہے، آتے جاتے مسجد میں اور دوسرے مقامات پر ایک دوسرے کو ہم دیکھتے ، ایک دوسرے کے لئے ہاتھ اٹھا کر سلام کرتے رہے تو یہ بھی ملاقاتیں ہی ہیں۔پس اس پہلو سے آئندہ جلسے پر آنے والوں کو میں نصیحت کر رہا ہوں حوالہ امریکہ اور کینیڈا کا دے رہا ہوں لیکن مخاطب وہ بھی ہیں جو اس جلسے پر تشریف لائیں گے۔اس مضمون کو پیش نظر رکھیں دعا کریں اللہ تعالیٰ وقت میں برکت دے اور زیادہ سے زیادہ دوستوں سے ملنے کی توفیق بخشے لیکن اگر نہ ہو سکے تو پھر جلسے کی ملاقات ہی کو ملاقات سمجھیں۔گھنٹوں جب آپ کے سامنے میں کھڑا ہوتا ہوں، باتیں کرتا ہوں تو وہ ملاقات ہی کی ایک صورت ہے۔اب میں ایک اور بات امریکہ کے ایک خطبہ کے حوالے سے یہ کرنی چاہتا ہوں۔ملک لال خان صاحب کینیڈا نے خط لکھا ہے جو مجھے کل ملا ، اس میں انہوں نے فرمایا ہے کہ آپ نے جب آنحضرت ﷺ کی پسند کے شعر کی بات کی تو وہ ایک تمہید تھی جو بہت ہی دلچسپ اور پر لطف تھی جس سے حضرت اقدس محمد رسول اللہ اللہ کے ذوق میں جو دل کی کیفیت تھی جھانکنے کا موقع ملا لیکن غالباً