خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 539
خطبات طاہر جلد 15 539 خطبہ جمعہ 12 جولائی 1996ء سے معذرت خواہ ہوں اور یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اتنی بڑی ملاقاتوں میں یہ حقیقت ہے کہ ہر شخص سے ملاقات ناممکن ہے اور جب ہوتی ہے تو پھر اتنی مختصر ہوتی ہے کہ بعض دفعہ ملاقات کے بعد جانے والے بڑی حیرت سے دیکھتے ہیں کہ اچھا وقت ختم بھی ہو گیا ہے۔ہم تو پندرہ سومیل سے آئے تھے یا دو ہزار میل سے آئے تھے تو آپ نے بس اتنا سا ہی وقت رکھا تھا۔تو میں ان سے گزارش کرتا ہوں کہ وقت میں کہاں رکھتا ہوں ، وقت تو اللہ نے رکھے ہوئے ہیں۔مجھے چوبیس (24) گھنٹے کے دن کی بجائے اڑتالیس (48) گھنٹے کا دن دے دیں تو پھر میں آپ کے وقت کو بھی بڑھا دوں گا اور اپنی خدمت کے وقت کو بھی بڑھا دوں گا مگر یہ بے اختیاریاں ہیں۔ایک طرف یہ مطالبہ کہ ہر ایک سے ملاقات ہو دوسری طرف یہ مطالبہ کہ ہر ملاقات سیر حاصل ہو تو یہ تو ہو ہی نہیں سکتا، ناممکن ہے اور جب میں دیکھتا ہوں بعض خاندان بے چارے چھوٹے چھوٹے بچوں کو لے کر کئی کئی گھنٹے بیٹھے رہتے ہیں تو مجھے خود تکلیف ہوتی ہے اور شرمندگی محسوس کرتا ہوں کہ یہ بے چارے صرف دو منٹ کی ملاقات کے لئے بیٹھے ہیں۔مگر وہ دومنٹ کو بڑھانا میرے قبضہ قدرت میں نہیں کیونکہ ایک طرف جب بڑھاؤں گا تو دوسرے بچوں کی دل آزاری ہوگی جو ان کو اور بھی لمبا بیٹھنا پڑے گا اور ان کی ملاقات کا وقت اور بھی مختصر ہو جائے گا۔اس لئے میں آپ کا وقت بانٹتا ہوں اصل میں۔میرا وقت تو آپ کے لئے حاضر ہے۔مگر جو وقت آپ سب کا مشترک ہے اس کو مجھے جس حد تک ممکن ہے انصاف سے بانٹنا پڑتا ہے۔اب جو آنے والے ہیں وہ بھی اس بات کو پیش نظر رکھیں کہ ملاقاتوں کا جوسلسلہ ہے یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت بڑھ چکا ہے اور میں نے دو خلفاء کا زمانہ پہلے دیکھا ہے اور حضرت خلیفہ اسیح الاول کے وقت کے حالات بھی ہمارے سامنے ہیں جو سلسلہ کے لٹریچر میں موجود ہیں، انفرادی طور پر اس طرح فیملی ملاقات کی جو توفیق خدا تعالیٰ نے اس دور میں مجھے بخشی ہے اس کی کوئی مثال آپ کو پہلے دکھائی نہیں دے گی۔ان کے وقت مجھ سے زیادہ مصروف رہے ہیں ، زیادہ عمدہ نیکی کے کاموں میں وہ مشغول رہے ہیں۔یہ مراد نہیں کہ نعوذ بالله من ذالک انہوں نے اپنے وقت کو بچالیا، اپنی ذات کے لئے بچایا، صرف یہ مراد ہے کہ اب جماعت کے تقاضے اور طرح کے ہو گئے ہیں اور تربیت کے حقوق میں ملاقات بھی ایک اہم جزو کے طور پر داخل ہو گئی ہے۔اس زمانے میں جتنے احمدی تھے ان کو قریب رہنے کا موقع مل جایا کرتا