خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 532 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 532

خطبات طاہر جلد 15 532 خطبہ جمعہ 5 جولائی 1996ء جب دیکھا تو آنحضرت ﷺ نے ہمیں فرمایا۔ہاں اس کا قصہ یہ تھا کہ اس کا بچہ کھویا گیا تھا اور چونکہ بچے سے پیار تھا اس لئے اس کے حوالے سے ہر بچے سے پیار ہو گیا۔ہر بچہ اپنا دکھائی دینے لگا اور یہی مضمون ہے جو ایک عرب شاعر نے اس حوالے سے بیان کیا ہے کہ میرا بھائی جس مقام پر دفن ہے وہ اگر چه الگ مقام ہے لیکن مجھے تو جہاں بھی کوئی قبرستان دکھائی دیتا ہے اس کا نام وہی لگتا ہے جو میرے بھائی کے مدفن کی جگہ کا نام ہے۔میں ہر قبر پر اسی طرح گریہ وزاری کرتا ہوں جیسے اپنے بھائی کی قبر پر گریہ وزاری کرتا تھا کیونکہ یاد رکھو کہ ایک غم دوسرے غم کو ابھار دیا کرتا ہے، ایک محبت دوسری محبت کو چھیڑ دیتی ہے۔پس یہی کیفیت اس عورت کی تھی کہ جس بچے کو دیکھتی اسے سینے سے لگالیتی ، اسے دودھ پلاتی ، اس سے پیار کا اظہار کرتی۔آنحضرت ﷺ نے اس عورت کو دکھا کر صحابہ سے پوچھا کہ صلى الله بتاؤ کیا یہ عورت اپنے بچے کو آگ میں پھینک سکتی ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ہرگز نہیں۔تو آپ نے فرمایا کہ اللہ اپنے بندوں پر اس عورت کے اپنے بچے پر رحم کرنے سے زیادہ رحم کرنے والا ہے وہ کیسے بندوں کو آگ میں پھینک دے گا۔(صحیح بخاری ، كتاب الأدب ، باب رحمة الولد و تقبيله و معانقته) اب یہ جو مضمون ہے یہ بہت ہی لطیف ہے بہت ہی دل پر اثر پیدا کرنے والا ہے مگر اس کی حکمت سمجھنی ضروری ہے ورنہ یوں معلوم ہوگا جیسے قرآن کریم کے ان تمام وعید کو آنحضرت ﷺ غلط قرار دے رہے ہیں جہاں جہنم کی باتیں ہیں اور بڑے یقین اور تحدی کے ساتھ فرمایا جا رہا ہے کہ لازماً یہ بات ہو کے رہے گی اور خدا کی طرف سے ایک حقاً وعدہ ہے جوٹل نہیں سکتا کہ لازماً جہنم کو بد لوگوں سے بھر دیا جائے گا۔تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر یہ حدیث اس کے مقابل پر کیا معنے رکھتی ہے اور حدیث بھی ایک عام کتاب کی نہیں بلکہ بخاری کتاب الادب سے لی گئی ہے جو مستند کتابوں میں سے ایک اہم مستند کتاب ہے۔تو اصل بات یہ ہے کہ یہاں اس مضمون کی چابی لفظ بندے میں ہے۔وہ بچے جو ماؤں کے بچے بن کے نہیں رہتے جو ماؤں کے بچے ہوتے ہوئے بھی غیروں کے ہو جاتے ہیں بسا اوقات مائیں ان کو بد دعائیں بھی دے دیتی ہیں اور خود میرے سامنے ایک ایسا واقعہ ہوا کہ ایک عورت نے بستر مرگ پر اپنے بچے کو بد دعا دی صرف اس لئے کہ اس کا خدا سے تعلق ٹوٹ گیا تھا اور چونکہ اس