خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 531
خطبات طاہر جلد 15 531 خطبہ جمعہ 5 جولائی 1996ء دنیا کے تعلق کے درمیان ایک فیصلہ کرنے کا وقت آتا ہے ہر ایسے موقع پر دنیا سے بے نیاز ہو جاؤ۔مگر آپ نے یہ نہیں فرمایا ہر ایسے موقع پر بے نیاز ہو جاؤ۔آپ فرماتے ہیں دنیا سے بے نیاز ہو جاؤ۔یہ اس لئے ہے کہ ہر ایسے موقع پر بے نیاز ہی ہے جو کامیابی سے اس امتحان سے گزرتا ہے۔بے نیازی ایک دائمی کیفیت کا نام ہے۔یہ مطلب نہیں کہ اس موقع پر سوچ کر یہ فیصلہ کرو کہ اللہ کو لینا ہے اور دنیا کو چھوڑنا ہے۔آپ نے ایک دائگی کیفیت کا ذکر فرمایا ہے۔ایک انسان کے دل میں ہمیشہ ہمیش کے لئے یہ جذبہ مرتسم ہو جائے ، اس پر لکھا جائے ، چھپ جائے کہ خدا کے سوا مجھے کسی چیز سے پیار نہیں ہوگا اگر وہ خدا سے ٹکراتی ہے۔لیکن اللہ کے حوالے سے غیروں سے پیار کرنا یہ فطرت کے خلاف نہیں ہے بلکہ فطرت کے عین مطابق ہے۔پس اس دوسرے پہلو کی طرف بھی میں آنحضرت ﷺ کے حوالے سے روشنی ڈالوں گا کیونکہ گزشتہ خطاب کے بعد مجھے ایسے پیغامات ملے ہیں جس میں کچھ لوگ بے چارے پریشان سے ہو کے رہ گئے ہیں۔کہتے ہیں آپ نے تو کہا ہے اور قرآن اور حدیث کے حوالے سے کہا ہے کہ خدا کی محبت کے سوا باقی سب کچھ فانی ، جھوٹ ہے۔سب قصہ ہے اس کے سوا کچھ بھی باقی نہ رہے گا۔تو ہمیں تو اپنے ایمانوں پر شبہ پڑ گیا ہے۔ہم تو اپنے ماں باپ سے بھی محبت کرتے ہیں ، اپنے پیاروں سے بھی محبت کرتے ہیں ، بیویاں خاوندوں سے محبت کرتی ہیں، خاوند بیویوں سے محبت کرتے ہیں۔ہم کہاں جائیں گے اگر یہ سب شرک ہی کی نشانی ہے۔اگر ان محبتوں کے نتیجہ میں ہم خدا کی محبت سے محروم ہو جائیں گے تو ہمیں سمجھا ئیں کہ پھر کیا علاج ہے۔ہم کیسے اس مقصد کو پالیں جو آپ نے اللہ کی محبت کے حوالے میں بیان فرمایا۔تو میں پھر اس مضمون کی طرف لوٹوں گا مگر سر دست ایک حدیث آپ کے سامنے رکھتا ہوں جو دل کے اوپر ایک غیر معمولی ، ایک بہت ہی گہرا اثر کرنے والی حدیث ہے۔دل پہ قابض ہو جاتی ہے لیکن یہ ایک ایسی حدیث ہے جسے سمجھنا آسان بھی نہیں ہے۔کئی غلط فہمیاں بھی ہو سکتی ہیں۔حضرت عمرؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ کے پاس کوئی جنگی قیدی لائے گئے جن میں عورتیں بھی تھیں اور بچے بھی تھے۔ان عورتوں میں سے ایک عورت جس کسی بچے کو دیکھتی اس کو دودھ پلانا شروع کر دیتی ،اس سے محبت کا اظہار کرتی اور لوگ سمجھتے تھے کہ دیوانی ہوگئی ہے۔اس کیفیت کو