خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 533
خطبات طاہر جلد 15 533 خطبہ جمعہ 5 جولائی 1996ء عورت کا خدا سے گہرا تعلق تھا اس لئے اس نے بددعا دی اور میں حیران رہ گیا لیکن اس وقت میں سمجھا کہ خدا کا عشق اس پر اتنا غالب ہے کہ اپنے بیٹے کو بد دعا دے رہی ہے کیونکہ اس کا خدا سے تعلق ٹوٹ گیا تھا۔پس یہ چیز حقیقہ ممکن ہے اور انسانی فطرت میں بھی اس کے نظارے دکھائی دیتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کا بیان کرتے ہوئے شیطان کے ساتھ ایک گفتگو کو ایک تمثیل کے طور پر پیش فرمایا ہے۔جب شیطان نے یہ کہا تو یہ جو مخلوقات ہیں آدم کی اولادان پر مجھے اپنا اثر ڈالنے کے لئے قیامت تک کے لئے چھٹی دیدے اور پھر دیکھ کہ کتنے ہیں جو تیرے ساتھ رہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا چھٹی ہے۔تو اپنے گھوڑے بھی چڑھا لا ان پر ، اپنے پیارے بھی لے آؤ۔ان کے آگے سے، پیچھے سے دائیں اور بائیں سے ان پر حملے کرو اور جو کچھ بن سکتا ہے بناؤ اور ان بندوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرو مگر یہ یا درکھو جو میرے بندے ہیں ان پر تجھے کوئی دسترس نہیں ہوگی۔جو تیرے ہیں تو ان کو لے جاوہ تو میرے نہیں ہیں اور پھر قیامت کے دن میں تجھے بھی اور ان کو جنہوں نے تیرا ساتھ دیا تھا جنہوں نے مجھ سے بندگی کے تعلق توڑ لئے تھے آگ میں پھینک دوں گا۔تو یہ جو حدیث ہے یہ قرآن کریم کی اس آیت کے حوالے سے حل ہوتی ہے۔صلى الله آنحضرت ﷺ یہ فرمارہے ہیں کہ تم اگر خدا کا بندہ بنا سیکھ جاؤ اگر اس کے بندے ہو جاؤ اور عبادالرحمن والی صفات اپنے اندر پیدا کرو تو خدا کی قسم خدا تمہیں کبھی آگ میں نہیں ڈالے گا۔ناممکن ہے کہ تمہیں آگ چھوٹے اور اسی مضمون کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمایا ہے کہ آگ ہے پر آگ سے وہ سب بچائے جائیں گے جو کہ رکھتے ہیں خدائے ذوالعجائب سے پیار ( در مشین اُردو : 154) اور اس دنیا میں بھی اس مضمون کو اطلاق فرمایا ہے۔فرمایا بڑے بڑے ابتلا آئیں گے دنیا میں خوفناک جنگیں ہوں گی بڑی بڑی ہلاکتیں ہیں جو تمہارے سامنے منہ پھاڑے کھڑی ہیں لیکن گھبرانے کی ضرورت نہیں۔آگ تو ہے مگر جو خدائے ذوالعجائب سے محبت کرتے ہیں ان پر آگ حرام کر دی جائے گی۔پس اس دنیا کی جہنم سے بچنے کا بھی یہی طریق ہے کہ ہم اللہ کے بندے بن جائیں اور بندہ بنے بغیر یہ توقع رکھنا کہ خدا کا رحم غالب ہے یہ حماقت ہے کیونکہ قرآن کریم نے اس