خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 529 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 529

خطبات طاہر جلد 15 529 خطبہ جمعہ 5 جولائی 1996ء ہے۔یہ حسد کا جذبہ پیدا کرنے والا ایک خیال ہے جس کے نتیجہ میں نفرتیں پھیلتی ہیں اور اگر ہر شخص کو یہ یقین ہو جائے کہ جو کچھ میرا ہے وہ میرا ہے اور میرا بھائی اس کو پسند کرتا ہے، اس پر غصہ نہیں کرتا تو اس سے ضرور محبت کرے گا اور یہ روز مرہ کا تجربہ ہے۔اگر ایک انسان کسی بھائی کی دولت پر ،اس کے اچھے مکان پر، اس کے اچھے مویشیوں پر ، اس کے اچھے فن پر ، اس کے ذوق وادب پر خوش ہوتا ہے تو ثابت ہو گا کہ اس کو اس سے کوئی حسد نہیں ہے اور اس حدیث کا مضمون اس پر پوری طرح صادق آئے گا کہ تم تمام انسانوں کی مخلوقات سے، جو کچھ خدا نے ان کو عطا فرمایا ہے ان سے اس حد تک بے نیاز ہو کہ ان کو جو خدا نے نعمتیں بخشی ہیں اس سے تمہیں کوئی تکلیف نہ پہنچے بلکہ خوشی نصیب ہو۔پس اپنے جب کوئی چیز حاصل کرتے ہیں تو دیکھیں آپ کتنا خوش ہوتے ہیں۔ایک بچے کو کامیابی نصیب ہوگئی سارا گھر خوش ہو جاتا ہے۔ایک عزیز نے کوئی بڑی نوکری حاصل کر لی سارا گھر خوش ہو جاتا ہے۔کسی کو کوئی اعزا ز مل جائے تو سارا گھر خوش ہو جاتا ہے بلکہ دور والے جو پہلے زیادہ تعلق نہیں بھی رکھتے تھے مگر دل میں تھا وہ ایسے موقعوں پر پہنچ جاتے ہیں مبارکباد دینے کے لئے۔کچھ جھوٹے بھی چلے جاتے ہیں یہ دکھانے کے لئے کہ ہم بھی تمہارے ساتھ ہیں۔مگر امر واقعہ یہ ہے کہ جو سچی محبت ہے اس میں اپنے پیارے کو جو ملے گا وہ اپنے آپ کو ملتا ہے اور اس پہلو سے ایک انسان صرف بے نیاز ہی نہیں ہوتا بلکہ متمول ہو جاتا ہے۔وہ شخص جو سب کی خوشیوں میں شریک ہے اس کی عجیب زندگی ہے۔جہاں اسے خوشی کی خبر ملتی ہے اس کا دل خوش ہو جاتا ہے۔وہ جو ہر ایک کے ماحصل کو ناپسندیدگی سے دیکھتا ہے ہر بات پہ جلتا ہے ساری زندگی وہ آگ میں جلتا رہتا ہے۔پس وہ لوگ جو اس دنیا میں اپنے لئے آگ جلائے رکھتے ہیں اور اس پر جلتے ہیں کیسے ہو سکتا ہے کہ اس دنیا میں انہیں جنت اور طمانیت کی خوش خبری دی جائے۔یہاں ہم نے اپنے ہاتھوں سے اپنی جہنم بنانی ہے، اپنی جنت بنانی ہے اور اس پہلو سے یہ نسخہ جو حضور اکرم ﷺ نے بیان فرمایا بہت گہرا ہے اور آپ کی قلبی کیفیات کا مظہر ہے کیونکہ جواب اس آیت کا جواب ہے جو میں آپ کے سامنے رکھ چکا ہوں۔اس نے پوچھا تو آیت کا حوالہ تو نہیں دیا۔پوچھا یہی تھا کہ بتائیں کہ اللہ مجھ سے کیسے محبت کرے میں تو کرتا ہوں۔تو اپنے دل کی کیفیات ہیں جو کھولی ہیں۔جس کا مطلب ہے کہ آنحضرت ﷺ اپنے غلاموں کی ہر کامیابی پر خوش ہوتے تھے