خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 530 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 530

خطبات طاہر جلد 15 530 خطبہ جمعہ 5 جولائی 1996ء اور اپنے غلاموں کی کسی کامیابی پر آپ کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی تھی۔بلکہ آنحضرت ﷺ کا جو قلبی احساس تھا اس میں تمام صحابہ کو جو کچھ ملتا تھا اس کے ساتھ میں ایک لذت کا جذبہ پیدا کر دیتا تھا۔پس دیکھو کتنی عظیم کامیابی ہے۔پہلا طریق وہ ہے جس پہ ہر وہ شخص جو آپ کے قریب نہیں ہے جب اس کو کچھ ملتا ہے آپ کے لئے ایک عذاب بن جاتا ہے۔اس کا ملنا آپ کے لئے عذاب بن جاتا ہے۔یہ دوسری صورت میں جو کچھ آپ کے عزیزوں ، اقرباء کو یا جاننے والوں کو ملتا ہے آپ کے لئے ایک لذت کا سامان پیدا کر دیتا ہے۔یہ وہ چیز ہے جو اس دنیا میں ایک جنت بنادیتی ہے اور زندگی کو کتنا آسان کر دیتی ہے۔اب اسی بات کو جواب کے پہلے حصے کے تعلق میں ہم مزید دیکھتے ہیں۔فرمایا اگر تم دنیا سے بے نیاز ہو جاؤ تو اللہ تم سے محبت کرنے لگے گا۔سوال یہ ہے کہ کس دنیا سے بے نیاز ہو جاؤ۔جو اللہ کی دنیا ہے اس سے تو بے نیازی ممکن نہیں ہے۔دنیا سے بے نیازی کا مطلب ہے غیر اللہ سے بے نیازی۔ورنہ جو اللہ کی چیز ہے اس سے تو انسان کو پیار ہوتا ہے اگر اللہ سے پیار ہے۔یہ یہ مضمون آنحضور ﷺ نے دوسری جگہ خوب کھول کر بیان فرمایا ہے۔پس بے نیازی سے مراد دو ہیں۔ایک یہ کہ دنیا اگر تمہیں تکلیف پہنچاتی ہے اور اس تکلیف کو تم خدا کی خاطر برداشت کرتے ہو اور پرواہ نہیں کرتے کہ دنیا نے تمہیں کیا کہا ہے اور تم سے کیسا سلوک کیا ہے ایسے موقع پر اللہ تم سے ضرور محبت کرے گا اور یہ جو مضمون ہے یہ گہرا انسانی فطرت میں رچا بسا مضمون ہے۔آپ دیکھیں آپ کے بچے بھی بعض ایسے ہیں جو خود جواب دیتے ہیں دوسرے کی باتوں پر بہت تکلیف محسوس کرتے ہیں۔کچھ ایسے ہیں جو خاموش ہو جاتے ہیں اور صبر سے برداشت کر جاتے ہیں۔ماں باپ کی نظر ان کے چہروں پر رہتی ہے اور ان کی تکلیف کو زیادہ محسوس کرتے ہیں، ان سے زیادہ پیار کرتے ہیں۔پس دنیا سے بے نیازی اگر ان معنوں میں ہے کہ دنیا خدا کی خاطر تکلیفیں پہنچاتی ہے اور آپ خدا کی خاطر خاموش ہو جاتے ہیں اور صبر کرتے ہیں تو یہ وہ بے نیازی ہے جو لا زما اللہ کی محبت کو کھینچے گی۔دوسرے بے نیازی اللہ کے تعلق کے حوالے سے ہے۔اگر آپ کو دنیا سے ایسا پیار ہے کہ خدا کے پیار کے رستے میں حائل ہو جاتا ہے تو اسے دنیا سے بے نیازی نہیں کہا جاسکتا۔دنیا سے بے نیازی اللہ کے تعلق میں صرف یہ معنے رکھتی ہے کہ جہاں بھی دنیا خدا سے ٹکراتی ہے اور خدا کے تعلق اور