خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 513
خطبات طاہر جلد 15 513 خطبہ جمعہ 28 جون 1996ء ہے اس فیصلے کا اطلاق نہ ہو جو آپ کے دل پر شاق گزرا کرتا تھا۔ایک موقع پر ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺے مجھے سے وہ گناہ سرزد ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں مجھے سنگسار کرنے کا حکم ہونا چاہئے۔آپ نے بات سنی اور منہ دوسری طرف کر لیا۔وہ شخص دوسری طرف سے آیا اور پھر یہی بات عرض کی کہ یا رسول اللہ مجھ سے وہ گناہ سرزد ہوا ہے جس کے نتیجہ میں مجھے سنگسار کرنے کا حکم جاری فرمائیں۔یہ اس زمانے کی بات ہے جب کہ ابھی وہ آیت نازل نہیں ہوئی تھی جس میں سنگساری کی بجائے سو کوڑے کی سزا مقرر فرمائی گئی۔آپ نے پھر منہ دوسری طرف کر لیا۔پھر وہ دوبارہ اس طرف سے آیا پھر آپ نے منہ پھیر لیا۔پھر جب چوتھی بار آیا تو آپ نے فرمایا اس کو لے جاؤ اور سنگسار کر دو۔اب یہ تین مرتبہ انحراف اور چوتھی بار توجہ فرمانا صاف ظاہر کرتا ہے کہ آپ کے دل میں یہ بات بہت گراں گزرتی تھی کہ عدل کی خاطر ہی سہی مگر کسی کو سزادی جائے اور دل نے یہ ایک جائز عذر اس وقت تراشا جو جائز تھا کہ اسلام نے چار گواہیوں کا حکم دیا ہے اس لئے جب تک یہ چار دفعہ اقرار نہ کرے میں اس کو سزا نہیں دوں گا۔کتنا عظیم خیال ہے، کتنا لطیف خیال ہے۔ایک عام انسان تصور بھی نہیں کر سکتا۔یہ محبت میں مبتلا کا قصہ ہے۔وو مجھ سے بڑھ کر میری بخشش کے بہانوں کی تلاش“ اس کو کہتے ہیں۔مجرم حاضر ہے کہ مجھے قتل کیا جائے ، مجھے دفنا دیا جائے زندہ درگو کر دیا جائے۔آپ اس سے احتراز کر کے دوسری طرف منہ پھیر لیتے ہیں۔کیا محبت کے بغیر یہ ممکن ہے اور جب حکم دیا تو اس وقت بھی دل بے قرار رہامگر دل کی خاطر یہ مجبوری تھی۔قیام عدل پر ایک بالا تقاضا تھا لیکن اس کے بعد ایک اور واقعہ ہوتا ہے۔وہی شخص جب اس پر پتھر برسائے جانے لگے تو پہلے تو وہ بڑی بہادری سے کہتا تھا مجھے سنگسار کیا جائے اس وقت تکلیف سے اٹھ دوڑا اور بعض صحابہ نے اس کا پیچھا کیا اور ایک نے اس کو پکڑ لیا اور پھر اسے سنگسار کر دیا۔جب یہ واقعہ فخر سے محمد رسول اللہ اللہ کے سامنے بیان کیا گیا تو آپ کو بے انتہاء تکلیف پہنچی۔آپ نے کہا بھاگتا تھا تو بھاگنے دیتے۔تمہیں کیا مصیبت پڑی ہوئی تھی کہ اس کے پیچھے پڑ کے اسے پکڑ کے پھر ذبح کرتے۔(صحیح مسلم، كتاب الحدود ، باب من اعترف على نفسه بالزني)