خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 514
خطبات طاہر جلد 15 514 خطبہ جمعہ 28 جون 1996ء یہ ہے احسان اور عدل کا ایک ایسا رابطہ جس سے بلند تر رابطہ ممکن نہیں ہے۔نہ پہلے انبیاء میں کوئی اس کی مثال دکھائی دیتی ہے، نہ آئندہ کبھی کسی انسان میں اس کی مثال دکھائی دے سکتی ہے۔اور یہ امر واقعہ ہے کہ خدا کی خاطر جب انسان سزا دیتا ہے اگر واقعتہ خدا کی خاطر دیتا ہے تو ضرور اس کا دکھ محسوس کرتا ہے۔میں ایک حقیر ، عاجز ، ادنی غلام ہوں محمد رسول اللہ ﷺ کا مگر میں گواہی دیتا ہوں کہ آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا کہ خدا کی خاطر مجھے کسی کو سزا دینی پڑے اور میں خود تکلیف میں مبتلا نہ ہوں۔بعض دفعہ ساری ساری رات میں بے چین رہا ہوں کہ کیوں مجھے اتنا سخت اقدام کرنا پڑ رہا ہے لیکن دشمن اعتراض سے باز نہیں آتے کہتے ہیں دیکھو تم نے جاری کردی سزا۔تمہارے دل میں کوئی رحم نہیں ہے۔میں ان کو جواب دیتا ہوں کہ دیکھو رحم اور عدل کا ایک ایسا رشتہ ہے جسے محمد رسول اللہ ﷺ سے ہم سیکھیں گے اور محمد رسول اللہ ﷺ کو چھوڑ کر عدل اور احسان کا کوئی رشتہ استوار ہو ہی نہیں سکتا۔پس اپنی تکلیف کو میں خدا پہ چھوڑتا ہوں اور تمہارے اعتراض کو بھی میں خدا پہ چھوڑتا ہوں مگر احسان کے نام پر مجھ سے عدل کے تقاضوں سے بے اعتنائی کی کبھی توقع نہ رکھنا کیونکہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے کبھی ایسا نمونہ نہیں دکھایا۔پس یہ وہ امارت کے حقوق ہیں جو آپ سب کو ہم سب کو ادا کرنے ہیں اور یہ معنی ہے وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ ان کی تکلیفیں بھی خدا کی خاطر برداشت کر اور خدا کی خاطر جو تجھے تلخ فیصلے نافذ کرنے پڑتے ہیں ان کا دکھ بھی خدا کی خاطر برداشت کر۔یہ وہ صبر عظیم ہے جس کا ذکر آنحضرت مے کے حوالے میں بعض دفعہ نام لے کر ، کھلے اشارے میں بعض دفعہ مخفی اشاروں میں ہمیں قرآن کریم میں ملتا ہے اور یہ وہ حفظ عظیم ہے جو محمد رسول اللہ ﷺ کو عطا ہوا اور جس کے نتیجہ میں پھر دشمن دوست بنائے جاتے ہیں۔پس ایسے ہی امیر کا ذکر کرتے ہوئے آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں۔پہلے یہ حدیث آپ کے سامنے رکھتا ہوں، وقت تھوڑا ہے، دوحدیثیں شاید پیش کر سکوں گا۔حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے کبھی کسی کو نہیں مارا نہ کسی عورت کو ، نہ خادم کو یعنی آپ کی قلبی کیفیت یہ تھی۔البتہ اللہ تعالیٰ کے رستے میں آپ نے خوب جہاد کیا۔آپ کو جب کسی نے تکلیف پہنچائی آپ نے کبھی اس سے انتقام نہیں لیا ہاں جب اللہ تعالیٰ کے کسی قابل احترام مقام کی مراد ہے جو اللہ تعالیٰ کے ہاں خدا کی طرف سے معزز محترم چیزیں قرار دی گئی ہیں ان