خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 512
خطبات طاہر جلد 15 512 خطبہ جمعہ 28 جون 1996ء (صحیح مسلم، کتاب الحدود، باب قطع السارق الشريف وغيره ، والنهي عن الشفاعة في الحدود) سب سے زیادہ احسان کا تعلق آپ کو امت کے علاوہ اقرباء سے تھا کیونکہ قرآن کریم نے اقرباء کا حق زیادہ بتایا ہے اور اس مضمون کو جگہ جگہ کھولا ہے۔پس اپنے اہل سے جو رحمت اور شفقت کا تعلق تھا وہ اسی الہی ہدایت کے تابع تھا کہ ساری امت سے تیرا تعلق ہے مگر اقرباء کا پھر بھی ایک فائق حق ہے جس کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا ہے۔تو مثال فاطمہ کی دی اپنی پیاری بیٹی کی جو ایک پاکیزگی کا بھی مجسمہ تھی اگر یہ بھی چوری کرتی تو میں ہرگز اپنے احسان کو عدل کی راہ میں حائل نہ ہونے دیتا۔پس یہاں عدل کی بحث ہے اور عدل کے اوپر جب احسان کو غالب کیا جائے تو شرک شروع ہو جاتا ہے۔اس میں ہمیشہ کوئی مخفی خوف ہوتا ہے جس کی وجہ سے انسان عدل سے باز آتا ہے۔یادرکھو عدل کے قیام میں ہمیشہ شرک روک بنتا ہے۔آپ جتنی گہرائی سے اس مضمون کا جائزہ لیں اس کے سوا کوئی نتیجہ نکال ہی نہیں سکتے کہ عدل کی راہ میں ہمیشہ شرک حائل ہوگا۔تو فرمایا کہ تو نے کمال عدل سے کام لینا ہے۔رجز کو چھوڑنا ہے بہر حال چھوڑنا ہے اور تیرا احسان اس راہ میں حائل نہ ہو اور یہ خیال دل میں جاگزیں نہ ہو کہ اس طرح تیرا رسوخ کم ہو جائے گا۔وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرُ (المدثر : 8) اور جو کچھ کرنا ہے اپنے رب کی خاطر کرنا ہے اور اپنے رب کی خاطر صبر سے کام لینا ہے۔اب ایک اور مضمون ایسا بیان ہو گیا جس کا دنیا کی ڈکٹیٹر شپ سے دور کا بھی تعلق نہیں۔ڈکٹیٹر اور صبر کا کیا تعلق ہے۔جو ڈکٹیٹروں کے ماتحت ہوتے ہیں وہ بے چارے صبر کرتے کرتے ایڑیاں رگڑ رگڑ کے جانیں دے دیتے ہیں مگر ڈکٹیٹر کے لئے تو صبر کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔آنحضرت ﷺ کو اس موقع پر جو یہ فرمایا وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرُ یہ ایک بہت گہرا اور وسیع مضمون ہے جس کو سمجھ کر اپنی ذات سے جاری کرنے کی ضرورت ہے۔فَاصْبِرُ سے مراد ایک تو یہ ہے کہ دشمنوں کی ایذا رسانی، دشمنوں کی تکلیف پر جو عدل کے نتیجے میں ضرور عادل کو پہنچا کرتی ہے تو نے صبر سے کام لینا ہے۔دوسرے یہ کہ عدل کے اجراء میں صبر سے کام لینا ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ جب خدا کی خاطر کوئی فیصلہ فرمایا کرتے تھے تو ہمیشہ اس کا دکھ محسوس کرتے تھے اور کبھی بھی کوئی تلخ فیصلہ غصے اور نفرت کے جذبے سے نہیں کیا بلکہ ہمیشہ کوشش کرتے تھے کہ عدل سے ڈرے ڈرے جہاں تک ممکن