خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 511 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 511

خطبات طاہر جلد 15 511 خطبہ جمعہ 28 جون 1996ء ہے جو خوشامد کو پسند کرتا ہے یا محض تائید کو دیکھتا ہے اور یہ نہیں پہچانتا کہ تائید برحق اور مناسب ہے یا ناحق ایک قسم کی جنبہ داری کے تعلق میں ہے تو وہ خود بھی مریض ہو جاتا ہے اور ساری جماعت میں یہ مرض پھیل جاتا ہے کہ جی اچھی بات کہو تو فائدہ ہوگا۔تعریفیں کرو گے تو تمہیں کچھ حاصل ہوگا اور نہ تم جماعت کے پسندیدہ دائرے سے باہر نکال کر پھینک دیئے جاؤ گے۔جہاں تک اس اعتراض کا حق ہے خدا تعالیٰ یہ اعتراض کا حق کسی کو نہیں دیتا۔یہ ایک الگ مضمون ہے اس کی طرف میں پھر آؤں گا لیکن جہاں تک امیروں کو ہدایت دینے کا تعلق ہے فرمایا ہے تم نے ہرگز اپنے رسوخ کو بڑھانے کی خاطر کوئی احسان نہیں کرنا۔اگر کوئی مریض ہے تو اسے کاٹ کر الگ کر دو اور اس معاملے میں احسان کو عدل کی راہ میں حائل نہ ہونے دو۔یہ وہ مضمون ہے جس کی بار یکی کو سمجھنا ہمارے لئے انتہائی ضروری ہے اور ہر سطح پر اس کی باریکی کو سمجھنا ضروری ہے۔احسان عدل سے اوپر کا مرتبہ ہے مگر عدل کو احسان پر ہمیشہ یہ فوقیت حاصل ہے کہ جب احسان عدل سے ٹکراتا ہے تو احسان گر جاتا ہے عدل باقی رہتا ہے۔پس ایک احسان کا تقاضا ہے جو رؤف رحیم میں بیان ہوا ہے۔ایک عدل کا تقاضا ہے جو گندے اور مشرک لوگوں کو اپنے سے ہٹا کر باہر دور پھینک دینے کا تقاضا ہے۔یہ تقاضا ہمیشہ غالب رہے گا اور کوئی احسان بھی عدل کی راہ میں حائل نہیں ہوسکتا۔آنحضرت ﷺ نے اس مضمون کو اپنے حوالے سے یوں کھولا کہ ایک موقع پر جب ایک سردار کی بیٹی کے ہاتھ کاٹے جانے تھے اس وقت کسی نے حضرت اسامہ بن زید کو اس خیال سے کہ آپ کو اپنے غلام کا بیٹا بہت پیارا ہے سفارش کے لئے بھیجا۔جہاں تک مجھے یاد ہے وہ اسامہ ہی تھے مگر کوئی اور بھی ہو سکتا ہے۔جو بھی تھا اسے اس خیال سے کہ رسول اللہ ﷺ کو بڑا پیارا ہے سفارش کے لئے بھیجا اور یہ کہا کہ آنحضور سے عرض کرو کہ یہ وہ عورت جس کے ہاتھ کاٹے جانے کا حکم دیا گیا ہے یہ ایک بہت بڑے رئیس اور صاحب اختیار انسان کی بیوی یا اس کے خاندان سے تعلق رکھنے والی ہے۔اگر اس کے ہاتھ کاٹے گئے تو ہو سکتا ہے اس سارے قبیلے پر ابتلا آئے۔جب آپ نے یہ بات سنی تو جلال سے آپ کا چہرہ تمتما اٹھا۔اتفاق کی بات تھی کہ اس کا نام بھی فاطمہ تھا اور آپ کی بیٹی کا نام بھی فاطمہ تھا۔آپ نے فرمایا اس فاطمہ کی تم سفارش کرتے ہو، خدا کی قسم اگر میری بیٹی فاطمہ نے بھی چوری کی ہوتی تو میں اس کے ہاتھ کاٹنے کا بھی اسی طرح حکم دیتا۔یہ عدل ہے۔