خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 510
خطبات طاہر جلد 15 510 خطبہ جمعہ 28 جون 1996ء اپنے نفس کی خاطر اطاعت کے خواہاں ہیں کیونکہ شرک کا مضمون دوطرفہ ہے جہاں کوئی امیر ایسے لوگوں کی باتوں سے خوش ہوتا ہے جو دکھائی دے دینا چاہئے کہ محض خوشامد کی خاطر اس کی بڑائی کرتے ہیں اور اس کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں وہاں وہ خود بھی شرک میں شریک ہو گیا اور شرک ایک ایسی لعنت ہے کہ شرک کرنے والا بھی پوچھا جائے گا اور جس کو شریک ٹھہرایا جائے گا وہ بھی پوچھا جائے گا اور دونوں ہی لعنتیں ہیں۔پس اگر چہ یہ شرک خفی ہے۔اس کے بہت باریک پہلو ہیں۔مگر ہم نے جو دنیا کو اطاعت کے اسلوب سکھانے ہیں اور آنحضرت ﷺ کی امارت کے رنگ دکھانے ہیں ہمیں لازماً اپنی ذات میں یہ باریک تبدیلیاں پیدا کرنی ہوں گی ورنہ نظام جماعت کی حفاظت کی کوئی ضمانت ممکن نہیں ہے۔ہر آنے والے کو سمجھانا ہے اور یہاں امریکہ میں بھی اس کی ضرورت ہے اور ان میں بھی ضرورت ہے جو آج سے پہلے ایمان لا چکے ہیں۔کئی قسم کے میں افریقن احمدی دیکھتا ہوں جو امریکہ میں آباد ہو کر اب امریکن افریقن احمدی ہیں ان میں سے بعض ایسے ہیں جو ان شکوک میں مبتلا رہتے ہیں کہ جو امارت کی باتیں ہو رہی ہیں جو اطاعت کی باتیں ہو رہی ہیں گویا ایک حاکم کے بدلے تم اور حاکم بیرونی ہم پر نافذ کر دئے گئے ہو اور کیوں ہم آخر اس طرح اطاعت کریں۔یہ جوان کے ایمان کی کمزوری ہے یہ دراصل فہم کی کمزوری سے ایمان کی کمزوری پیدا ہوئی اور اس فہم کی کمزوری میں ان لوگوں کا دخل ہے اور وہ ذمہ دار ہیں جن کا فرض تھا کہ ان کو اسلامی اطاعت کی روح سکھا ئیں اور بتائیں کہ امارت کی اطاعت کیوں ہوتی ہے اور کس کی خاطر ہوتی ہے۔پس اگر اطاعت اللہ کے لئے ہے جیسا کہ ان آیات میں آخر پر مضمون کو اپنے انتہائی نقطہ عروج تک پہنچایا گیا ہے تو پھر اگر وہ اس بات کو سمجھ لیں کہ اطاعت رب کی ہے ، بندے کی نہیں ہے تو وہ اس فکر سے آزاد ہو جائیں گے ،اس احساس کمتری کا شکار نہیں رہیں گے۔چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ ان سب پر جن کا ذکر گزرا ہے ان پر اس غرض سے احسان نہیں کرنا کہ تیرا اثر اور رسوخ بڑھے کیونکہ اگر شرک کو تو نے برداشت کر لیا اپنی ذاتی بڑائی کو پسند کیا اور ان کمزور لوگوں پر جو بیمار ہو گئے ہیں ان کو اپنے اردگر درہنے دیا تو اس بیماری کا اثر تیرے گردو پیش پر پڑے گا۔تمام دائرے کو یہ بیماری بیمار کرسکتی ہے جن کا تیری امارت سے تعلق ہے اور امر واقعہ ہے کہ ایسا ہی ہوا کرتا ہے۔جہاں لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ ایک ایسا امیران پر نافذ کیا گیا