خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 482 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 482

خطبات طاہر جلد 15 482 خطبہ جمعہ 21 جون 1996ء دکھائی جارہی ہیں جن پر ہر صاحب امر کا چلنا ضروری ہے اس کے لئے لازم ہے کہ ان باتوں سے نصیحت پکڑے۔ وہ نرم ہوتا ہے تو دل کی کمزوری کی وجہ سے نرم نہیں ہوتا ۔ وہ شفقت کرتا ہے تو اس وجہ سے نہیں کہ یہ لوگ اگر میں شفقت نہیں کروں گا تو مجھے چھوڑ دیں گے اور پھر میں اکیلا رہ جاؤں گا۔ اس لئے یہ وہم دل سے نکال دینا لازم ہے کہ آنحضرت ﷺ کی شفقت ان کا دل ، ویسے صلى الله محاورے میں تو ہے دلر بائی کے لئے تھا۔ نے کے لئے کیونکہ اردو میں تو آنحضرت کے لئے تھا یا دل چوری کرنے کے۔ کے تعلق میں تو یہ محاورہ منہ سے نکلتا نہیں ، تو ان کے دل کو اپنے قدموں سے ہمیشہ کے لئے وابستہ کرنے کی خاطر تھا۔ آنحضور کے ذہن میں کسی شفقت کے وقت کبھی بھی یہ پہلو نہیں آیا کہ میں اس لئے شفقت کروں کہ لوگ میرے گرویدہ ہو جائیں ، لوگ مجھ سے محبت کرنے لگیں کیونکہ آپ کا ہر فعل تو اللہ کی رضا کی خاطر تھا۔ پس اگر اللہ کی خاطر آپ کا ہر فعل تھا تو آپ کی شفقت کا تعلق اپنے غلاموں کے دل جیتنے سے ہو ہی نہیں سکتا ۔ پس یہ جو مضمون ہے وَانْذِرْ عَشِيْرَ تَک یہ اس تعلق میں آپ سمجھیں تو بات روشن ہو جائے گی کہ ایسا شخص جب خدا کی خاطر ڈراتا ہے تو قطع نظر اس کے کہ اس ڈرانے کا کیا اثر پڑے گا چونکہ رضائے باری تعالیٰ اس کے پیش نظر ہے اس لئے وہ بے خوف ہو کے ڈرائے گا۔ ورنہ جو صاحب خوف ہے وہ ڈرا بھی نہیں سکتا اور ایسی بہت سی مثالیں ہمارے سامنے آتی ہیں کہ ایک شخص دنیا کے ڈر کے مارے انذار بھی نہیں کر سکتا۔ وہ کہتا ہے اگر میں نے انذار کیا تو یہ لوگ مجھے ماریں گے پس آنحضرت ﷺ کا انذار توحید سے پھوٹا تھا اس لئے پہلے توحید کا ذکر فرمایا۔ پھر فرمایا اپنے جتنے تیرے قریبی ہیں ان سب کو ڈرا دے اور جب ڈرایا تو سارے برک کے بھاگ گئے ۔ اب بتا ئیں یہ کیسا حیرت انگیز مضمون ہے۔ لیکن اس کے ساتھ فرمایا ہاں جو اس کے باوجود تجھ پر ایمان لے آئیں اور تیرے قریب آئیں ۔ وَاخْفِضْ جَنَا حَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ تو جو بھی ان میں سے تجھ پر ایمان لائیں اور تیری پیروی کریں تو ان پر جھک جا یعنی تیرے دل میں کوئی سختی نہیں ہے۔ تو ڈراتا ہے تو ان لوگوں کی خاطر ڈراتا ہے۔ ڈراتا ہے تو رضائے باری تعالیٰ کی وجہ سے ڈراتا ہے۔ پس جب وہ تجھے قبول کر لیں تو پھر رحمت کے پر ان پر جھکا دے لیکن اس وجہ سے نہیں پھر کہ مومن ہیں ، مان گئے ہیں اب یہ نہ کہیں ہاتھ سے نکل جائیں ۔ باقیوں کو تو ڈرا دھمکا کے دور کر دیا اب یہ جو قریب آئے ہیں یہ نہ کہیں جاتے رہیں۔ فرمایا ہرگز یہ بات نہیں ۔ فان صلى الله