خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 481 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 481

خطبات طاہر جلد 15 481 خطبہ جمعہ 21 / جون 1996ء کے سامنے آپ سر جھکا رہے ہیں اس کا وجود ایک دکھائی دے رہا ہے۔مگر آپ کے لئے یہ ہدایت ہے کہ اس وجود کو نظر سے ہٹا دو کیونکہ تمہارا تذلل اللہ ہونا چاہئے اور اپنے رب کی خاطر ہونا چاہئے۔جب اپنے رب کی خاطر ہو تو کسی غیر کے سامنے جھکنا نشان ذلت نہیں بلکہ نشان عظمت بن جاتا ہے۔ایک بڑا آدمی ایک چھوٹے کے سامنے جھک رہا ہے محض اس لئے کہ خدا نے اسے اس معاملے میں مامور فرمایا ہے اس لئے اس کا جھکنا ذلت کا نشان نہیں بلکہ رفعت کا نشان بن جاتا ہے اور جس حد تک اس کے نفس کی قربانی اس میں داخل ہوتی ہے اسی قدروہ رفعتوں سے نوازا جاتا ہے۔لیکن ایک اور جھکنا بھی ہے جو اپنے غلاموں کے سامنے جھکنا ہے،اپنے غلاموں پر جھکنا ہے۔اس مضمون کا اس آیت کریمہ میں ذکر فرمایا گیا ہے۔وَاخْفِضْ جَنَا حَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اے میرے حضور جھکنے والے تو ان پر بھی جھک جو تیرے حضور جھک رہے ہیں اور میری خاطر جھک رہے ہیں اور اپنی رحمت اور شفقت کا پر ان پر جھکا۔دیکھیں کتنا عظیم مضمون ہے جو اس آیت کریمہ میں ایسی رفعتوں تک اس مضمون کو پہنچا رہا ہے جن تک عام انسان کے تصور کی رسائی ممکن نہیں محض خدا کا کلام ہے۔سوائے خدا کے کلام کے کوئی کلام اس شان کا کلام نہیں ہوسکتا کہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کو ان پر جھکنے کی تاکید فرمائی جن کی گردنیں ان کے حضور جھکا دی گئی تھیں۔اس سے پہلے فرماتا ہے وَانْذِرُ عَشِيْرَ تَكَ الْأَقْرَبِينَ اپنے قریبیوں کو بھی ڈراؤ۔اب پیشتر اس کے کہ میں وَاخْفِضْ والے مضمون کو دوبارہ اٹھاؤں اور مزید تفصیل بیان کروں میں چاہتا ہوں کہ پہلی آیت کے بعد دوسری آیت کے تعلق کو بیان کر دوں پھر اس کے بعد بات آگے بڑھے گی۔توحید سے ہر مضمون شروع ہوتا ہے، تو حید کے بغیر دنیا میں کوئی بھی سچائی نہیں۔سب جھوٹ اور بے معنی اور بے حقیقت باتیں ہیں۔توحید کے نتیجے میں وَانْذِرُ عَشِيْرَ تَكَ الْأَقْرَبِينَ فرمایا گیا۔دیکھو تمہارا تعلق اللہ سے ہے اور تمہارے اقرباء، تمہارے قریبی نہ تمہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ تمہیں فائدہ پہنچا سکتے ہیں اس لئے ان کو ڈراؤ اور ان کو متنبہ کرو اور ہرگز اس بات کو خوف نہ کرو کہ اپنے اقرباء کو بھی ڈرا دھمکا کر اگر تم نے پرے پھینک دیا تو تمہارا کیا بنے گا۔اب اس مضمون کے حوالے سے پڑھیں کہ اگر تو نرم دل اور رحم دل اور صاحب شفقت نہ ہوتا تو یہ لوگ تجھ سے بھاگ جاتے۔سوال یہ ہے کہ کیا ان دو باتوں میں تضاد ہے ؟۔تضاد نہیں بلکہ وہ بار یک تقویٰ کی راہیں ہمیں