خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 483
خطبات طاہر جلد 15 483 خطبہ جمعہ 21 / جون 1996ء عَصَوكَ فَقُلْ إِنّى بَرِى مِمَّا تَعْمَلُونَ اگر یہ سب تیری نافرمانی کریں گے تو کہہ دے میں اس سے بری الذمہ ہوں جو تم کرتے ہو۔میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔تمہاری ذات سے میرا تعلق نہیں ہے۔ان اعمال سے میرا تعلق ہے جو خدا کی خاطر تم بجالا رہے ہو۔وہ اعمال نہیں ہوں گے تو تم میری رحمت کے حق دار نہیں رہوگے، میری شفقت کے حق دار نہیں رہو گے۔پس یہ وہ مضمون ہے جو ہر صاحب امر کے لئے سمجھنا ضروری ہے وہ جب کسی سے پیار کرتا ہے اپنے ماتحتوں پر جھکتا ہے تو اس کے ذہن کے کسی گوشے میں بھی نہیں آنا چاہئے کہ میں ان پر اس لئے جھک رہا ہوں کہ یہ میری تائید کرنے والے لوگ ہیں۔اس لئے جھک رہا ہوں کہ یہ میرا عشیرہ ہے، میرے اقر بین ہیں کیونکہ اقر بین سے تو بات شروع ہوئی تھی۔فرمایا ان کو تو ڈرا دے تو مانیں گے حق پر چلیں گے حق پر قائم رہیں گے تو پھر تیری رحمت ان پر ہوگی ورنہ تیرا ان سے کوئی تعلق نہیں۔پس وہ امیر جو اس وجہ سے بعض لوگوں سے تعلق رکھتے ہیں کہ وہ ان کے زیادہ قریب ہیں ان کے حق میں باتیں کرنے والے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ جو بھی میں کہوں گا اس کی تائید میں اٹھ کھڑے ہوں گے وہ جانتے نہیں کہ توحید کے مضمون کے یہ بات خلاف ہے اور جو بات بھی تو حید کے برخلاف ہو وہ خدا تعالیٰ کے نظام میں کہیں بھی کوئی مقام نہیں رکھتی۔وہ نظام اللہ نے ہمیں عطا فرمایا ہے اس میں ہر پہلو کا توحید سے تعلق ہے۔پس باریک راہیں ہیں مگر ان باریک راہوں کا اختیار کرنا ضروری ہے کیونکہ جماعت کے تقویٰ کی زندگی ان راہوں سے وابستہ ہو چکی ہے۔ان راہوں کو چھوڑ دیں گے تو آپ بھی کبھی نیک انجام نہیں ہو سکتے ، آپ کے مستقبل کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔پس ہرا میر کے لئے ان آیات سے میں نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہتا ہوں لازم ہے کہ جھکے اور رحمت کے ساتھ سب لوگوں سے انکساری کے ساتھ ، بجز کے ساتھ تعلق قائم کرے۔اپنے مرتبے کا خیال نہ کرے۔اس کا مرتبہ بڑا ہے تو محض اس لئے کہ خدا نے اسے ایک مقام پر فائز کیا ہے۔مگر جس مقام پر فائز کیا ہے اس مقام کا تقاضا یہ ہے کہ وہ خود نیچے اتر آئے۔اب یہ خود نیچے اترنے والا مضمون ہے۔یہ وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ سے نکلتا ہے اور آنحضرت ﷺ کی سیرت ان پر خوب روشنی ڈال رہی ہے۔آنحضرت ﷺ کے متعلق روایات اور کثرت سے روایات بتاتی ہیں کہ آپ مومنوں کے لئے ایسی شفقت رکھتے تھے اور ایسے منکسر المزاج تھے کہ اگر رستہ چلتے