خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 480
خطبات طاہر جلد 15 480 خطبہ جمعہ 21 / جون 1996ء اور تمام رفعتیں اس پستی میں ہیں جو خدا کی خاطر قبول کی جاتی ہے پس کہو سبحان ربی الاعلیٰ۔پاک ہے میرا رب جو بہت اعلیٰ ہے اور ربنا نہیں ربی الاعلیٰ فرمایا گیا ہے۔ہر شخص کا رب اس پر اپنی رفعتوں کے ساتھ اس کی پستیوں کی نسبت سے ظاہر ہوتا ہے۔چنانچہ آنحضرت ﷺ نے جو یہ فرمایا کہ جب بھی خدا کا بندہ عجز اختیار کرتا ہے تو اسے اللہ تعالیٰ ساتویں آسمان تک اٹھالیتا ہے اور زنجیر کے ذریعے سے لپیٹ کر اوپر لے جایا جاتا ہے۔اب استدلال کے طور پر ہم اسے غیر احمدیوں کے سامنے جو رفعت کا معنی نہیں سمجھتے یہ پیش کیا کرتے ہیں۔مگر یہاں اس موقع پر میں کسی بحث کی خاطر نہیں بلکہ ایک عرفان کے نکتے کے طور پر آپ کو سمجھا رہا ہوں۔تو وہ زنجیر جو اترتی ہے اس سے مراد درجہ بدرجہ انسان کی پستی خدا کے حضور اور درجہ بدرجہ اس پستی کی نسبت سے رفعت ہے۔ساتویں آسمان سے ہرگز یہ مراد نہیں کہ ہر شخص جوخدا کے حضور جھکتا ہے اسے سیدھا ساتویں آسمان تک رفعت دی جاتی ہے۔ساتویں آسمان تک کی رفعت اس کا انتہائی مقام ہے۔جتنا تذلل اختیار کرے گا اتنا اس کی رفعت کے سامان خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوں گے یعنی یہ پستیاں بذات خود رفعتوں میں تبدیل نہیں ہوا کرتیں اس لئے آسمان سے زنجیر اترنے کا ذکر فرمایا یعنی تم تذلل اختیار کرو مگر یہ وہم بھی نہ کرنا کہ تمہارا تذلل ہی تمہیں کچھ عطا کر دے گا۔تمہارے تذلیل کو رفعتوں میں بدلنے کے لئے آسمان سے ایک زنجیر کا اتر نالازم ہے اور وہ اترے گی تو تمہارے تذلل کے متعلق فیصلہ کرے گی کہ کس حد تک اس میں رفعت کی طاقت موجود ہے اور اسی نسبت سے تمہیں اٹھایا جائے گا۔ساتویں آسمان سے آگے ذکر نہیں ملتا کیونکہ اس سے آگے جانے والا صرف ایک ہی وجود ہے جو حضرت محمد مصطفی ﷺے ہیں جن کا خدا کے حضور تذلل اس ہر انتہاء سے آگے بڑھ گیا جس انتہاء کو کبھی کسی انسان کا تذلل پہنچ سکا یا پہنچ سکے گا۔پس آپ کا جو سلسلہ ہے وہ اس عام قانون سے بالا سلسلہ ہے اور اس سلسلے کا ذکر یہاں مذکور نہیں۔پس اس پہلو سے یاد رکھیں کہ ہمیں یہ سبق دیا گیا ہے کہ تم جتنا جھکو گے اگر وہ خدا کی خاطر ہوگا، اگر خدا کی خاطر تم نے تذلل اختیار کیا ہے تو بسا اوقات ممکن ہے کہ یہ تذلیل کسی انسان کے سامنے دکھائی نہ دے کیونکہ صاحب امر ایک غیر بھی ہو سکتا ہے یعنی ہوگا ہی غیر کیونکہ خدا تعالیٰ براہ راست تو ہر ایک کو حکم نہیں دیا کرتا۔مراد یہ ہے کہ الف، ب، ج، د، جو بھی ان کا نام رکھیں جو صاحب امر ہے جس