خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 479 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 479

خطبات طاہر جلد 15 479 خطبہ جمعہ 21 / جون 1996ء پیش نظر رہتی ہے، اس کے ساتھ اختلافات اس کی اطاعت میں حائل نہیں ہو سکتے اور ما اور تو کا تفرقہ مٹ جاتا ہے، اسی طرح لازم ہے کہ ہر شخص جس کے سپرد کوئی امر فرمایا گیا ہو وہ اپنے ماتحت لوگوں سے قطع نظر اس کے کہ ان سے اس کے پہلے کیسے تعلقات تھے قطع نظر اس کے کہ شریکے کے لحاظ سے یا اور تعلقات کی نسبت سے ان کے درمیان ایک طبعی یکسانیت نہیں پائی جاتی بلکہ ایک قسم کی دوری ہے پھر بھی اللہ کی خاطر لازم ہے کہ وہ ہر ایک سے برابر شفقت کا سلوک کرے اور سب پر اپنی رحمت کے پر جھکائے۔اس ضمن میں جن آیات کی میں نے تلاوت کی ہے ان میں اس مضمون کو آگے بڑھایا گیا ہے اور اس کے علاوہ چند اور آیات بھی ہیں جن کے حوالے سے میں اس مضمون پر مزید روشنی ڈالنا چاہتا ہوں۔پہلے جو ہے فَلَا تَدْعُ مَعَ اللهِ اِلَهَا أَخَرَ فَتَكُونَ مِنَ الْمُعَذِّبِينَ ہر بات توحید سے چلتی ہے اور توحید کے سوا مذہب کا کوئی مضمون بھی نہیں جاری ہوتا۔ہر بلندی کا چشمہ توحید ہے۔ہر عجز کا چشمہ بھی تو حید ہے۔ان معنوں میں رفعتیں بھی تو حید سے وابستہ ہیں اور جو انسان کے نفس کی پستیاں ہیں وہ بھی تو حید ہی سے وابستہ ہیں۔اگر توحید سے تعلق نہ ہو تو رفعتیں بھی ذلتوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔اگر تو حید سے تعلق نہ ہو تو پستیاں بلندیوں میں تبدیل نہیں ہو سکتیں۔چنانچہ ہر نماز میں سجدے میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ تم نے اگر اللہ سجدہ کیا تو پھر یہ دعاسبحان ربی الاعلیٰ ،سبحان ربی الاعلیٰ ،سبحان ربی الاعلی۔اس موقع پر سپیکر کے نظام میں ایک نقص کی طرف توجہ دلائی گئی تو اس پر حضور نے فرمایا: لندن والے کہتے ہیں کہ مائیکروفون ذرا نیچے کر دیں اور یہ مائیکروفون میں اونچا کر دوں۔رفعتوں اور پستیوں کا یہ بھی ایک مضمون ہے کوئی چیز نیچے کی جاتی ہے اور کوئی چیز اونچی کی جاتی ہے۔پھر مضمون کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا: اب سبحان ربی الاعلی کا مضمون اس وقت ہے جب انسان کا سرانتہائی پستی کی حالت میں خدا کے حضور جھکا ہوا ہوتا ہے اور اسے یاد دلایا جارہا ہے کہ تمہاری رفعتیں تمہاری پستیوں سے وابستہ ہیں کیونکہ تم خدائے واحد کے حضور جھکے ہو جب کہ ہر دوسرے کی غلامی سے تم آزاد کئے جا رہے ہو۔