خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 471 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 471

خطبات طاہر جلد 15 471 خطبہ جمعہ 14 /جون 1996ء اب بعض لوگ امیر کے متعلق بعض باتیں کہتے ہیں اور وہ اُس تک پہنچ جاتی ہیں۔اس کے متعلق پہلا رد عمل تو یہ ہونا چاہئے کہ اگر اس نے واقعی سنجیدگی سے بات کو لینا ہے تو فرض ہے کہ وہ تحقیق کرائے اور پوری تحقیق انصاف سے کروائے۔اس وقت تک جب تک تحقیق نہ ہوایسے شخص سے اپنے تعلقات میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی پیدا نہ کرے اور اگر تحقیق کر والے تو پھر یہ دیکھے کہ کس حد تک اس میں عفو کا حوصلہ ہے ، مغفرت کا حوصلہ ہے اور یہ دیکھے کہ کس حد تک عفو اور مغفرت ان کی اصلاح کا موجب بن سکتے ہیں۔تو پھر اپنے عفو اور مغفرت کی جھولی میں ہاتھ ڈالے اور ان سے وہ احسان کا سلوک کرے جو ان کی اصلاح کا موجب ہو سکتا ہے۔اس طرح جو بگڑے تگڑے جیسے کہتے ہیں محاورے میں، بگڑے تگڑے لوگ جو ہیں وہ بھی ٹھیک ہونے لگتے ہیں اور دن بدن سرکشوں اور بدوں کے دائرے تنگ ہونے لگتے ہیں اور یہ نہ ہو تو پھر ان کے دائرے رفتہ رفتہ بڑھنے لگ جاتے ہیں۔اور یہی ہے جو مجھے فکر لاحق ہے کہ امارت کے حقوق ادا کرنے کی طرف تو میں نے جماعت کو توجہ دلائی اگر امیر کو اپنے حقوق ادا کرنے کی طرف تفصیل سے توجہ نہ دلائی تو جماعت میرے تعلق میں اس اعلیٰ تقویٰ پر قائم ہو تو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے فرمان اور قرآن کے فرمان کے پیش نظر عمل درآمد کرے گی بھی تو اس میں جان نہیں ہوگی۔بچی جان پڑ ہی نہیں سکتی اور پھر اس حالت کو کوئی بقا نصیب نہیں ہو سکتی۔کوئی ایسا وقت آ سکتا ہے بیماری کا جیسے موسم بدلیں تو بعض بیماریاں سراٹھا لیتی ہیں۔کوئی ایسے حادثے پیش ہو سکتے ہیں ایسی جماعتوں میں کہ جہاں دبی ہوئی نا انصافی کے احساس اس وقت سر اٹھا لیں اور ایک باغیانہ رجحان پیدا ہو جائے۔تو بعض کمزوریاں ایسی ہیں جن کے بیج بعض دفعہ باقی رہتے ہیں اور بیج ان کے کلیتہ مٹائے جاہی نہیں سکتے۔اصل میں صرف دیکھنا یہ ہے کہ بیج نشو و نما پا کر بڑھ رہے ہیں اور پھیل رہے ہیں یا پھیلے ہوئے سکڑنے لگ گئے ہیں اور رفتہ رفتہ اپنے تنے تک آگئے اور تنے سے بھی ٹوٹ کر ، مرجھا کر پھر وہ جڑوں تک پہنچ گئے ہیں اور جڑیں بھی پھر مرجھانے لگیں۔یہ دو ہی رجحان ہمیں قدرت میں ملتے ہیں۔اب دیکھیں بعض موسموں میں بعض درخت کس طرح زور کے ساتھ پتے نکالتے اور نشو و نما پاتے ہیں۔وہ جو دور ہٹے ہوتے ہیں راستوں کے کناروں پر رفتہ رفتہ راستوں پر قبضہ کرنے لگتے ہیں یہاں تک کہ کھلے راستوں سے بھی گزرنا مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ ان کی شاخیں ہر طرف سے آکر خالی جگہوں پر قابض ہو جاتی ہیں اور جب ان