خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 470
خطبات طاہر جلد 15 470 خطبہ جمعہ 14 /جون 1996ء کا یہ فرض ہے کہ ایسے تاثرات کو اپنے سے زائل کرنے کی کوشش کرے اگر اس میں کچھ بھی جواز ہے اور اگر جواز نہیں ہے تو پھر بھی ظالم لوگ تو ایسی باتیں کرتے ہی رہتے ہیں پھر اس کا فرض ہے مستغنی ہو جائے اور یہ ایک دوسری صفت ہے جو امیر میں ہونی ضروری ہے جو حضرت رسول اللہ ﷺ میں تھی اور اللہ تعالیٰ نے اس صفت کو بڑے پیار کے ساتھ نہ صرف قبول فرمایا بلکہ اسے فروغ دینے کے لئے قرآن کریم میں آپ کے اس مزاج کو صادر فرما دیا۔حضرت عائشہ صدیقہ پر جو بہت ظالمانہ بہتان لگا ہے۔اس بہتان کے تعلق میں سب سے زیادہ صدمہ تو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو تھا لیکن آپ نے اس ذاتی صدمے کی وجہ سے ان ظالموں سے خیر کے سلوک کو بند نہیں کیا، نہ پسند کیا۔یہاں تک کہ حضرت ابوبکر کے متعلق روایت ہے آپ نے بعض ایسےلوگوں سے جو اس ظلم میں بالواسطہ شریک ہو گئے تھے احسان کا سلوک بند کر دیا، جو خدمت کیا کرتے تھے ان کی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے اس سے ہاتھ روکا تو قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا ہے۔آپ نے فرمایا کہ وہ انسانی ضرورتیں اور محتاجیاں الگ مسئلہ ہے۔اس وجہ سے ایسا فعل نہ کرو۔تو دیکھیں قرآنی تعلیم سنت محمدی ﷺے میں ڈھل کر کیسے عظیم نمونے پیدا کر رہی ہے جن کی کوئی تصویر سارے جہان میں نیکیوں کے اندر بھی دکھائی نہیں دیتی۔بہت بار یک لطائف ہیں جو محمد رسول اللہ نے کے اعلیٰ کردار کی باتیں ، جو نظام جماعت سے تعلق رکھنے والی باتیں ہیں صرف ان پر میں کہتا ہوں اگر نظر رکھیں تو آپ حیران رہ جائیں گے۔خدا تعالیٰ بار بار بیان فرمارہا ہے کہ فلاں شخص منافق ہے ، دھو کے باز ہے، قسمیں کھاتا ہے تجھ پر ایمان لایا مگر نہیں لایا۔مگر اس کے باوجود آنحضرت ﷺ اپنے روز مرہ کے کردار میں اور اپنے نظام کے فرائض کی ادائیگی کے تعلق میں ان سے قطعاً ادنی بھی نا انصافی کا سلوک نہیں کرتے۔یہ خدا نے راز کی بات بتائی ہے۔یہ اللہ کی مرضی ہے جس پر جس کا عیب چاہے کھول دے۔مگر جہاں تک دنیا کے تقاضے ہیں اس علم کے باوجود آنحضرت ﷺ جانتے تھے کہ جب تک انصاف کے پورے تقاضے انسانی سطح پر پورے نہ ہوں کوئی قانونی رد عمل دکھانے کا حق نہیں ہے۔کچھ مزاج ہی ایسا تھا مگر مزاج کے علاوہ بھی عدل کے اعلیٰ مضامین کو اور اعلیٰ اصولوں کو جس باریکی سے آنحضرت ﷺ سمجھتے تھے دنیا میں کوئی نہیں سمجھ سکتا۔پس اس پہلو سے آپ کا جو نمونہ ہے وہ یہاں بھی تو جاری ہونا چاہئے۔