خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 465
خطبات طاہر جلد 15 465 خطبہ جمعہ 14 /جون 1996ء انہوں نے مجھے یہ کہا کہ ملتے رہا کرو آئندہ بھی۔مطلب یہ تھا کہ اب میں حکومت میں آگیا ہوں لیکن یہ مطلب نہیں کہ میں اپنے تعلقات کو اس وجہ سے قربان کردوں کہ میں کوئی بڑا آدمی بن گیا ہوں۔شاید ان کے ذہن میں یہ تھا یا کچھ اور بات ہوگی۔میں نے ان سے کہا کہ میں تو آئندہ ملنے جلنے کا وعدہ لینے کے لئے نہیں آیا۔یہ بتانے آیا ہوں کہ اب ملنا جلنا ختم ہو گیا ہے۔اچانک ساری مجلس پر ایک سناٹا سا چھا گیا کہ کیسی عجیب بات کر گیا ہے یہ اور بھٹو صاحب نے ایک دم سب باتیں چھوڑ کر میری طرف متوجہ ہو کے سوال کیا، کیا؟ یہ کیا کہہ رہے ہو تم۔یہ کہنے آئے ہو کہ اب تم مجھ سے ملنا جلنا بند کر دو گے۔میں نے کہا ہاں میں یہی کہنے آرہا ہوں۔کہتے ہیں کیا مطلب ہے۔میں نے کہا مطلب یہ ہے کہ میں نے سیاست کی تاریخ کا مطالعہ کیا ہوا ہے اور مشہور جو بڑی بڑی شخصیتیں ہیں ان پر میری نظر رہی ہے۔میں جانتا ہوں کہ اچھے سے اچھا سیاست دان بھی نیک سے نیک نیتیں لے کے بھی جب او پر آتا ہے تو اس کے اردگرد جو جھوٹی تعریفیں کرنے والے اس کی طاقت میں Share کرنے کی خاطر ، اس میں حصہ ڈالنے کی خاطر اس سے چمٹ جاتے ہیں جیسے کبھی گڑ پہ بیٹھ جائے آئے۔وہ ہیں جو اس گڑ کو نا پاک کر دیتے ہیں پھر اور بڑے بڑے سیاست دان جو بڑی نیک اور پاک نیتیں لے کے آئے تھے جب طاقت پر قابض ہوئے تو ان ظالموں نے جوار دگر دا کٹھے ہو جاتے ہیں انہوں نے ان کو خراب کر دیا اور میں جھوٹی تعریف لے کر کبھی کسی سے نہیں مل سکتا اور سچی بات پھر حا کم کو بری لگتی ہے اور سیاست دان برداشت کر لیتا ہے جب تک وہ حاکم نہ ہو۔اب آپ صرف سیاست دان ہی نہیں رہے آپ حاکم ہو گئے ہیں اور میں وہی ہوں مجھ پر کوئی تبدیلی نہیں۔نہ مجھے آپ سے کوئی حرص ، نہ کوئی لالچ اور ملنا نہ ملنا اس پہلو سے برابر ہے۔تو مجھے خطرہ ہے کہ اب میں ملا اور میں نے کچی باتیں کیں تو پھر آپ کو تکلیف پہنچے گی تو بعد میں جو تعلق تو ڑنے ہیں ابھی کیوں نہ توڑ لئے جائیں۔یہ باقی جو باتیں ہیں اس کو میں چھوڑتا ہوں۔میں مثال دے رہا ہوں کہ یہ جو مضمون ہے کہ ایک صاحب اقتدار کولوگ گھیرے میں لے لیتے ہیں یہ ایک دائمی مضمون ہے۔تمام دنیا کی تاریخ پر اس کا برابر اطلاق ہوتا ہے اور اس تاریخ کا محض سیاست سے تعلق نہیں۔اقتصادیات سے بھی تعلق ہے اور دوسرے انسانی زندگی کے دائروں سے بھی تعلق ہے۔جہاں کسی آدمی کو بڑا ہوتے دیکھیں وہاں پرانے رشتے یاد آ جاتے ہیں۔پرانے