خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 466
خطبات طاہر جلد 15 466 خطبہ جمعہ 14 /جون 1996ء تعلقات کے حوالے سے انسان اس کے گردا اکٹھا ایک جمگھٹ شروع کر دیتا ہے۔یہاں تک کہ ایک دفعہ مجھے یاد ہے مجھے اس پہ ہنسی بھی بہت آئی مگر واقعہ ہے جو انسانی فطرت کی کمزوری کو ظاہر کرنے کے لئے دلچسپ ہے۔ایک احمد نگر کی خاتون تھیں ان کے بیٹے نے ذکر کیا کہ ضیاء الحق صاحب کا یہ حال ہے دیکھوذ را اخلاق۔میری ماں نے فون کیا تو فون ہی نہیں اٹھایا اس کا اور ہونے ہی نہیں دیا حالانکہ وہ بھی آرائیں ہم بھی آرائیں۔اب آرائیں کا رشتہ اور وہ بھی جالندھر کے یہ بھی جالندھر کے تھے یہ اتنا پکا ہو گیا کہ پہلے ساری عمر تو ضیاء کا خیال نہیں آیا ان کو ، وہ حکومت پر آیا تو آرائیت جاگ اٹھی اور اس خیال سے اس کے گردا کٹھے ہونے لگ گئے۔یہ گردا کٹھے ہونے والے بعض دفعہ بہت ہی خطرناک نتیجے پیدا کرتے ہیں اور جماعت میں یہ نہیں ہونے دینا چاہئے کسی قیمت پر بھی۔اگر آپ کے گرد کچھ لوگوں نے ایسا گھیراؤ کر لیا جو آپ کو جماعت سے الگ کر دیں ان معنوں میں کہ جماعت کے تمام تاثرات ان سے فلٹر ہو کر آپ تک پہنچیں اور براہ راست جماعت میں یہ اعتماد نہ رہے کہ آپ ان کے اسی طرح برابر ہیں اور ان کے خلاف اسی طرح بات سننے کے لئے تیار ہیں جیسے ان کی بات سنتے ہیں تو پھر آپ کی امارت اسی حد تک کمزور پڑ جائی گی۔اس لئے بہت ہی احتیاط کی ضرورت ہے۔کچھ لوگوں نے جنہوں نے خدمتیں کرنی ہیں انہوں نے اکٹھے ہونا ہی ہونا ہے لیکن اب یہ آپ کا کام ہے کس کو اکٹھے کرنا ہے۔کس کو اکٹھے اپنے گرد جمع نہیں ہونے دینا اور اگر ہوتے ہیں تو اس کو اپنے مرتبے اور مقام پر رکھیں۔ان کی مجال نہیں ہونی چاہئے کہ آپ کے ان معاملات میں دخل انداز ہوں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کے سپر د فرائض منصبی کے طور پر کئے ہیں۔ایسی صورتوں میں صرف یہ جماعت کے دوسرے افراد کا تعلق نہیں۔میں نے دیکھا ہے بعض لوگ بیویوں کے زیر اثر آجاتے ہیں اور فرائض ہیں امارت کے یا صدارت کے اور بیوی کے جو تعلقات ہیں دوسری عورتوں سے وہ تعلقات اس کے فرائض منصبی پر اس طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔وہ یہ بتاتی ہے فلاں جو عورت ہے نا اس کا خاوند تو بہت بے ہودہ ہے اور وہ ایسا ہے یا فلاں عورت جو ہے وہ بیچ میں سے آپ کو پسند نہیں کرتی۔فلاں ماحول میں یہ باتیں ہو رہی ہیں۔وہ کچے کانوں والا خاوند، وہ زنخوں کی طرح اپنے فیصلے پر چلنے کی بجائے اپنی بیوی کے تابع چلتا ہے جب کہ یہ دلداری اور اخلاق نہیں ہیں۔یہ بزدلی اور نا مردی ہے اور صرف یہی نہیں بلکہ نظام جماعت سے