خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 455
خطبات طاہر جلد 15 455 خطبہ جمعہ 14 /جون 1996ء کسی امارت پر فائز ہونے پر بہت گہرے تقاضے ہیں انہیں لازماً پورا کرنا ہوگا۔( خطبه جمعه فرموده 14 / جون 1996ء بمقام بيت الفضل لندن) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا: گزشتہ خطبات میں جرمنی کے سفر کے دوران بھی اور بعد ازاں بھی میں نے جماعت کو امارت کی عزت اور احترام کی طرف توجہ دلائی اور جماعت کو نصیحت کی کہ اپنی اطاعت میں محبت اور خلوص کا رنگ پیدا کریں کیونکہ یہی کچی اور حقیقی اطاعت ہے جو انسان کو ابتلاؤں سے بچاتی ہے۔اگر محض میکانیکی یعنی مینیکل اطاعت ہو تو ایسی اطاعت بعض دفعہ ٹھوکر کے مقام پر انسان کو سہارا نہیں دے سکتی اور معمولی عذر پر بھی انسان اپنی اطاعت کا تعلق تو ڑ کر خودسری کی طرف مائل ہو جاتا ہے یعنی جہاں محبت اور ادب کے رشتے ہوں وہاں یہ دونوں رشتے اطاعت کی حفاظت کرتے ہیں اور ان کے اندر ایک وارفتگی سی پیدا کر دیتے ہیں ، ایک ایسا رجحان جس کے بعد انسان اطاعت کی سختیوں کو برداشت کرنے کا اہل ہو جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ماں کو جو تربیت میں مرتبہ اور مقام حاصل ہے اتنا کسی اور رشتے کو نہیں کیونکہ ماں کی سختیاں بسا اوقات رد عمل کے بغیر بچہ جھیلتا ہے اور جہاں ردعمل دکھاتا ہے وہاں ماں کا کوئی قصور ہوا کرتا ہے۔وہ ماں جو فطری تقاضے پورے کرتی ہے، بچوں سے پیار اور محبت کے تعلق قائم رکھتے ہوئے ان کی اصلاح کا خیال رکھتی ہے اس ماں کے بچے بختی کے وقت بھی دکھ تو محسوس کریں گے، بغاوت نہیں کریں گے۔پس جہاں جماعت کو میں نے توجہ دلائی ہے وہاں اب میں امراء کو بھی نصیحت کرنا چاہتا ہوں بلکہ ہر جماعتی عہد یدار کو کہ اس نے اگر خدمت لینی ہے اور اطاعت کے اعلیٰ نمونے دیکھنے ہیں تو