خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 454
خطبات طاہر جلد 15 454 خطبہ جمعہ 7 / جون 1996ء صلى الله باتوں کے درمیان ختم نبوت کا مسئلہ بھی حل کر جاتے ہیں۔وہ جو بیوقوفیاں آباؤ اجداد کی تھیں ان میں ایک یہ بھی بیان کرتے ہیں۔عجیب بے وقوف لوگ تھے کہتے تھے اب نبی کبھی خدا نہیں بھیجے گا اور دیکھو نبی سے مل کر آ رہا ہے۔تو یہ ختم نبوت کا عقیدہ ہے مولوی جھوٹ بولتے ہیں کہ یہ رسول اللہ ﷺ کے بعد جاری ہوا۔قدیم سے اس قسم کے عقیدے مختلف رنگوں میں قوموں میں پائے جاتے تھے۔پس رسول اللہ ﷺ نے اس کی تردید فرمائی اور یہ بات اپنے پلے باندھ کر وہ واپس لوٹے کہ اس قسم کی ختم نبوت کوئی چیز نہیں کہ جس کے نتیجہ میں اللہ کی طرف سے ہدایت دینے والے ہی بند ہو جا ئیں۔نئے مذہب کی بات اور ہے مگر ہدایت دینے والے خدا کی طرف سے آنے لازم ہیں۔تو دیکھو وہ وفد کا طریق جو خدا نے ہمیں سکھایا اس کی ایک سچی حقیقی مثال ہمارے سامنے تاریخ اسلام سے رکھ دی کہ اسی طرح تم سے بھی ہو گا۔تم اس طرح تربیت کے انتظام کرو گے تو پھر یہ لوگ بڑے اعتماد کے ساتھ واپس جا کر اپنی قوم کی بدیوں کو دور کریں گے۔الحمد للہ غانا نے بڑی ہی سعادت مندی سے اس سکیم پر عمل کیا ہے اور ان کے خطوط سے پتا چلتا ہے کہ حیرت انگیز فائدے پہنچے ہیں۔پس باقی دنیا کی جماعتوں کو بھی خواہ وہ مغرب کی ہوں یا مشرق کی ہوں میں یقین دلاتا ہوں کہ دعوت الی اللہ اگر آپ ڈھب سے کریں گے تو جب تک قرآن کے بیان کردہ طریق پر آنے والوں کی تربیت کا انتظام نہیں کریں گے ہو سکتا ہے کہ جو بیج آپ ہوتے چلے جائیں وہ آگ بھی جائے تو پیچھے جانور اسے چر جائیں یا پرندے کھا جائیں آپ کے ہاتھ کچھ نہ آئے۔پس یہ وہ منتظم مربوط نظام ہے جو قرآن نے پیش کیا ہے اور میں امید رکھتا ہوں کہ جو بقیہ وقت ہے ہمارا تبلیغی سال پورا ہونے میں اس میں جماعتیں پورے زور سے کوشش کریں گی اور افراد بھی اور افراد کی ذمہ داری اس لئے اہم ہے کہ جب تک وہ اپنے اخلاق اور اعمال میں تبدیلی پیدا نہیں کریں گے جماعت میں طاقت پیدا ہو ہی نہیں سکتی۔جماعت نام ہے افراد کے مجموعے کا اور جو اجتماعی حسن ہے اس میں بڑی طاقت پیدا ہو جاتی ہے مگر وہ حسین قطروں سے بن کر بنا کرتا ہے۔اللہ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین