خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 441
خطبات طاہر جلد 15 441 خطبہ جمعہ 7 / جون 1996ء والے باپ ان کو میسر آتے ہیں، خاندانی روایات ہیں جو بڑی دیر سے بعض اخلاق کی حفاظت کر رہی ہیں اور ان کو خود بخود بڑے ہو کر نیک ہو جانا کوئی تعجب کی بات بھی نہیں اور نہ ان کے خدا رسیدہ ہونے کی علامت ہے۔پس نیکیوں میں بھی ضروری نہیں کہ خدا رسیدگی پائی جائے نیکیوں میں بھی ایک ایسی کیفیت پائی جاسکتی ہے جو نیکیاں دنیا کے اتفاقات کے نتیجہ میں معاشرے کے از خود پیدا ہونے والے امن کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہیں اور ان کا مذہب اور خدا سے براہ راست تعلق نہیں ہوتا۔تو ایسے نیک لوگ بھی آپ کو دکھائی دیں گے جن کو آپ تبلیغ کریں گے تو نیکی کی وجہ سے، مزاج کی ہم آہنگی کی وجہ سے آپ کی طرف آئے تو ہیں لیکن جب آپ تبلیغ کریں گے تو وہ کہہ دیں گے کہ ہم تو سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہیں اور تم ہمیں کیا بنا لو گے۔جھوٹ ہم نہیں بولتے ،کسی کا مال نہیں کھاتے۔جہاں تک خدمت کا تعلق ہے بنی نوع انسان کی جو خدمت ہے وہ ہم کرتے ہیں اور اخلاق سے پیش آتے ہیں۔تمہارے خلاف بھی جب کوئی بدتمیزی یا غلط بات کرے تو ہم ہمیشہ تمہاری حمایت کرتے ہیں تو اور انسانیت کیا ہے۔پس یہ سب کچھ ہم میں ہے۔مگر خدا تعالیٰ نے جو نیکی کی تعریف کی ہے وہ محض عمل تک محدود نہیں رکھی دعوت الی اللہ کو اس میں شامل کر دیا ہے۔پس نیکی کا ایک اور مضمون اس سے ابھرتا ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ شخص جو خدا سے نیکیاں پاتا ہے اسے تو ایک جنون سا لگ جاتا ہے کہ اتنی حسین ذات ہے اور اتنی دلکشی اس میں پائی جاتی ہے کہ میں نے جو کچھ پایا اس سے پایا ہے، میں لوگوں کو بھی اس کی طرف بلاؤں۔اب اس مضمون کو سمجھ کر حضرت مسیح موعود کے کلام کی آپ کو سمجھ آئے گی ورنہ اس کا کوئی شعور آپ کو میسر نہیں آسکتا۔درنمین اردو پڑھیں یا فارسی پڑھیں یا عربی پڑھیں بے اختیار دعوتیں پائی جاتی ہیں۔اس قدر بے اختیار ہیں اور نثر میں بھی کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ ایک انسان تڑپ رہا ہے بے چینی سے کہ جو کچھ میں نے پایا ہے میں لوگوں کو کیوں نہ دکھاؤں۔وہ دوا کہاں سے لاؤں جو کانوں کو شفا بخشے کہ وہ آوازوں کو سن سکیں۔اس قسم کے غیر معمولی قوت کے جذ بے کہ سب کچھ ہم نے خدا سے پایا ہے، ہم اس خدا کو تمام دنیا سے روشناس کرا دیں یہ وہ دعوت الی اللہ ہے جو نیک عمل کے ساتھ ملحق ہو جاتی ہے اور چونکہ نیک عمل اللہ کا ممنون احسان ہے، اللہ کے نتیجہ میں ہے اس لئے ایسا نیک عمل کرنے والا ضر ور خدا کی طرف بلائے گا اور اس کے اعمال کا اور عام دنیا دار کے اعمال کا یہ فرق ہوگا کہ