خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 440
خطبات طاہر جلد 15 440 خطبہ جمعہ 7 / جون 1996ء اصلاح شدہ نہ بھی ہوں مگر دل میں نیکی کا بیج ہے وہ بھی اس کی طرف مائل ہوتے ہیں۔دیکھو گند کی مکھی گند ہی کی طرف جاتی ہے اور شہد کی مکھی پھولوں کا رس چوستی ہے۔یہ فطری تقاضے ہیں جو ان دونوں کی ان آماجگاہوں کی تفریق کرتے ہیں جہاں انہیں جا کر اترنا ہے اور وہاں سے کچھ پھل یا گندگی کا رس چوسنا ہے۔تو اس پہلو سے پہلی تفریق تو آپ کے اعمال اس طرح کریں گے کہ آپ کے گردا گر آپ اچھے ہیں تو اچھے لوگ اکٹھے ہوں گے۔اگر بد ہیں تو بدلوگ اکٹھے ہوں گے اور بد کے لئے تو تبلیغ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔جب نیک انسان اچھے ماحول میں نیک لوگوں کو تبلیغ کرتا ہے تو اس کے لئے پھل لگنے کے امکانات بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔پس ایک نیک عمل کا یہ نتیجہ ہے۔دوسرا یہ کہ باوجود نیک ہونے کے لوگوں کو عملاً آج کی دنیا میں خدا میں دلچسپی نہیں رہی اور اس عدم دلچسپی کی وجہ محض ذاتی بدی نہیں ہے نیکوں میں بھی عدم دلچسپی پائی جاتی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا ان کے لئے ایسی حقیقت ہے جو دنیا سے دور ہٹ چکا ہے۔اس کا دنیا کے روز مرہ کاموں سے تعلق نہیں رہا اور تمام مذاہب میں یہ بد بختی آچکی ہے کہ ان کے رہنما عقائد کے لئے تو بھرتے ہیں اور فرقوں کو فرقوں سے اور مذاہب کو مذاہب سے لڑا دیتے ہیں مگر نیک اعمال کے لئے ان کے اندر کوئی حرکت پیدا نہیں ہوتی کوئی ہیجان پیدا نہیں ہوتا، کوئی فکر لاحق نہیں ہوتی۔ایسے فرقے جہاں نیکی پر اس قدر رزور ہو کہ اگر کوئی شخص اصلاح نہ کرے تو ایک پورا نظام اس کے ساتھ اس کے اوپر اپنے آپ کو وقف کر دے، اس کا گھیرا لے لے، اس کی برائیاں دور کرنے کی کوشش کرے۔ایسے فرقے کہاں ہیں سوائے جماعت احمدیہ کے۔صرف جماعت احمد یہ ہے جہاں یہ ایک نظام کے طور پر کل عالم میں کام ہو رہا ہے کہ بدی کی بیخ کنی کرنی ہے، نیکی کو نافذ اور ثابت کرنا ہے اور نیکی کی نشو و نما کے لئے انفرادی اور اجتماعی کوششیں کرنی ہیں۔دنیا کے جتنے مذاہب ہیں ان کے ماننے والے اکیلی اکیلی بھیڑوں کی طرح ہیں جو ایک ہی جنگل میں ملتی ہیں۔مگر کوئی ان بھیٹروں کا نگہبان نہیں ہے، کوئی گڈریا نہیں ہے جو ان کی حفاظت کرے۔پس اس پہلو سے لوگوں کے اندر عملاً نیکی اور نیکی کے منبع یعنی خدا تعالیٰ کی ذات میں دلچسپی کم ہوتے ہوتے تقریباً مٹ چکی ہے۔پس جن لوگوں کو میں نے نیک کے طور پر تعارف کروایا تھا میری مراد عرف عام کی نیکیاں ہیں۔عرف عام میں نیکیاں طبیعت کا حصہ ہوتی ہیں۔بعض لوگ ایسے خاندانوں میں پیدا ہوتے ہیں جہاں سلیقے والی مائیں ، سلیقے