خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 439
خطبات طاہر جلد 15 439 خطبہ جمعہ 7 / جون 1996ء والے کو دلچسپی پیدا نہیں ہوتی جب تک تبلیغ کرنے والے کی ذات میں دلچسپی پیدا نہ ہو۔ذات میں دلچسپی ضروری ہے اور اگر ایسا کوئی شخص جو بد اعمالیوں میں مشہور ہے تو اس کی ذات میں بھی دلچسپی لینے والے ہوں گے اور جو نیکیوں میں شہرت پا جاتا ہے اس کی ذات میں بھی دلچسپی لینے والے ہوتے ہیں لیکن کند ہم جنس باہم جنس پرواز ایک تھیلی کے چٹے بٹے ایک ہی جگہ اکٹھے ہو جایا کرتے ہیں۔پس خدا کی طرف بلانے والے کے لئے اگر وہ خدا کی صفات سے عاری ہے کامیابی سے تبلیغ کرنے کا کوئی بھی امکان نہیں ہے کیونکہ جب تک کوئی شخص خدا کی صفات کسی ذات میں جلوہ گر نہ دیکھے اس کو خدا کی طرف توجہ نہیں ہو سکتی اور اگر صفات کو جلوہ گر دیکھے گا تو وہ لوگ جو بد ہیں وہ اس طرف رخ بھی نہیں کرسکیں گے۔سوائے ان بدوں کے جن کے دلوں میں اس کے حسن کردار کی وجہ سے ایک انقلاب برپا ہو رہا ہے۔پس سب سے پہلے تو تبلیغ Selective ہو جاتی ہے اور یہ بہت ہی اہم کام ہے۔ورنہ لوگ عمل کی تائید کے بغیر جو تبلیغ کرتے ہیں تو اینٹ پتھر روڑے کو بھی تبلیغ کرتے چلے جاتے ہیں اور کہیں اتفاق سے اچھی زمین بھی مل جاتی ہے اور وہ بیج پتھریلی زمینوں پر بھی پھینکتے رہتے ہیں اور عام بیج کو قبول کرنے والی زمینوں پر بھی کبھی کوئی بیج پڑ جاتا ہے۔مگر انہیں تمیز کوئی نہیں ہوتی اور کوئی ذریعہ تمیز ان کو میسر نہیں ہوتا۔اگر ایک احمدی سوسائٹی میں اس طرح مل جل کر رہ رہا ہے کہ اسے کوئی وجہ امتیاز نصیب نہیں ہوئی ، اس کے عمل کی خوبی نے اسے اپنی ذات میں ایک Class بنا کر، ایک پہچان بنا کر اسے ابھارہ نہیں ہے تو اس کے گرد ہر قسم کے لوگوں کا اجتماع ویسے ہی رہے گا جیسے ہر شخص کے گر در وزمرہ کے کاموں میں کچھ نہ کچھ لوگوں کا اجتماع ہو ہی جایا کرتا ہے۔دفتر میں جاتا ہے،سکول میں جاتا ہے، کالج میں جاتا ہے جیسا بھی زندگی بسر کر رہا ہے وہ لوگوں میں سے ایک انسان ہے اور نیک و بد ہر قسم کے اس کے گرد موجود رہیں گے۔اب وہ تبلیغ کرے گا تو نیک و بد سب کو ہی کرے گا اور چونکہ اس کی ذات میں نہ نیک کو دلچسپی ہے نہ بد کو دلچسپی ہے اس لئے سارے ہی سنی ان سنی کریں گے اور خصوصیت کے ساتھ جو بد ہیں وہ پھر بسا اوقات ایسے شخص کی کوششوں میں روک ڈالنے کے لئے شرارت بھی شروع کر دیتے ہیں لیکن یہ پہلو وہ ہے جو میں ایک دفعہ پہلے بھی بیان کر چکا ہوں۔اس وقت پیش نظر نہیں ہے۔پیش نظر یہ ہے کہ اگر ایک انسان کا کردار اچھا ہو اور نمایاں طور پر اچھا ہو تو لازماً معاشرے کے بہترین لوگ اس کے گردا کٹھے ہونے لگتے ہیں اور وہ لوگ جو عملاً