خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 438 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 438

خطبات طاہر جلد 15 438 خطبہ جمعہ 7 / جون 1996ء بھی ناکام رہتا ہے۔پس تبلیغ کی کامیابی کا راز بھی جہاں ایسے عمل میں ہے جو خوب صورت قول کی تائید کرنے والا ہے وہاں تربیت کی کامیابی کا راز بھی اس نیک عمل میں ہے جو خوب صورت قول کی تائید کرنے والا ہے۔یہ جب کرو پھر تمہیں یہ حق پہنچتا ہے کہ کہو میں مسلمان ہوں۔اب اس میں دیکھیں آج کی دنیا کی کتنی خرابیوں کا حل موجود ہے جو عالم اسلام کے راہنماؤں کی طرف سے دنیا میں پھیل رہی ہیں۔جو مرضی کردار ہو، قتل وغارت کی تعلیم دے رہے ہوں ، دنیا کے امن بر باد کر رہے ہوں اور بڑے زور سے دعوی کرتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں۔اگر عمل بد ہوں تو کم سے کم چھپانے ہی کی کوشش کرو۔حیا کا تقاضا یہ ہے کہ اس وقت اپنے رشتے ظاہر نہ کرو۔وہ لوگ جو جرموں میں پکڑے جاتے ہیں بسا اوقات اپنے ماں باپ کا نام نہیں بتاتے اگر ان کو علم ہو کہ ماں باپ کی عزت کو خطرہ ہے۔ان کا بڑا نام جو ہے وہ گلیوں میں رسوا ہو جائے گا تو اس سے آپ لاکھ پوچھیں وہ کہے گا نہیں میں نے کچھ نہیں بتانا۔جو احمق ہیں وہ ماں باپ کے اونچے نام کی حفاظت میں آنے کی خاطر اپنی بدیوں کے وقت بھی ان کو استعمال کر لیتے ہیں۔تو دیکھنا یہ ہے کہ تمہاری تبلیغ کیا رنگ رکھتی ہے۔کیا تم خدا کے نام کے اندر ، اس کی حفاظت میں اپنی بدیاں لا رہے ہو اور خدا کا نام لے کر ، اس کی طرف دعوت دے کر اپنے اعمال سے دنیا کی نظروں میں پوشیدہ ہور ہے ہو یا دنیا کی نظروں سے اپنے اعمال پوشیدہ کر رہے ہو کہ یہ تو خدا کی طرف بلانے والا ہے یہ تو اچھا ہی ہوگا۔اگر یہ بات ہے تو یہ منافقت ہے۔اس کا حقیقت سے سچائی سے اور آپ کے خدا کی طرف دعوت دینے سے کوئی بھی تعلق نہیں ہے بلکہ ایسے معاملات ہمیشہ دین کو نقصان پہنچاتے ہیں۔اس لئے تبلیغ کے ساتھ ساتھ یا دعوت الی اللہ کا جو معاملہ ہے۔دعوت الی اللہ ہی کے ساتھ ساتھ میں کہوں گا، تربیت کے وہ تقاضے بھی پورے کرنے ہوں گے جو آپ کی ذات سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ تقاضے بھی پورے کرنے ہوں گے جو آنے والوں کی ذات سے تعلق رکھتے ہیں۔اور وہ تقاضے بھی پورے کرنے ہوں گے جن کے نتیجہ میں آنے والے آتے ہیں۔وہ تقاضے پورے نہ ہوں تو آتے ہی نہیں۔پس یہ وہ تین پہلو ہیں عَمِلَ صَالِحًا کے جو میں ایک دفعہ پھر اختصار کے ساتھ آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔وہ تقاضے جو بلانے والے تقاضے ہیں ان میں یاد رکھیں کہ تب تک کسی تبلیغ میں کسی سننے