خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 427 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 427

خطبات طاہر جلد 15 که فرمایا 427 خطبہ جمعہ مورخہ 31 مئی 1996ء " (من أطاعنى فقد أطاع الله ومن عصاني فقد عصى الله و من أطاع أميرى فقد أطاعني ومن عصى أميرى فقد عصانی کہ جو میرے امیر کی اطاعت کرے گا اس نے میری اطاعت کی اورومن عصی امیری فقد عصانی و من عصاني فقد عصى الله (مسلم كتاب الأمارة ، باب وجوب طاعة الأمراء في غير المعصية و تحريمها في المعصية ) جس نے میرے مقرر کردہ امیر کا انکار کیا اس نے میرا انکار کیا ہے، جس نے میرا انکار کیا اس نے خدا کا انکار کر دیا۔تو اب بتائیں نظام جماعت کی کتنی اہمیت نکلتی ہے۔رسول اللہ ﷺ کی براہ راست اطاعت سے باہر جانے کا تو کوئی مومن تصور بھی نہیں کر سکتا ہے اور حیرت انگیز اس تشریح میں رفعت بھی ہے اور انکساری بھی ہے۔فرمایا کہ میری خاطر بیعت نہ کرنا، میری اطاعت نہ کرنا۔میں تو کچھ بھی نہیں اگر خدا میرا نہ ہو۔اگر خدا کا امر مجھ پر نازل نہ ہو تو میری کوئی حیثیت نہیں ہے۔پس جس کو میں امیر مقرر کرتا ہوں اس کی حیثیت بھی نہ دیکھنا اس کی تو حیثیت بنتی اس بات سے ہے کہ میں اسے کچھ کہتا ہوں۔ویسی ہی بات ہے جیسے غالب کہتا ہے۔ہوا ہے شہہ کا مصاحب، پھرے ہے اتراتا وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے کہ بادشاہ کا مصاحب ہو گیا، بادشاہ نے اس کو عظمت بخشی ، اس پر رحم کیا ، اسے اپنے قریب آنے کی توفیق دی تو دیکھو گلیوں میں بھی بڑے اتراتے ہوئے پھرتا (دیوان غالب : 279) ہے اور بڑی شان سے قدم اٹھاتا ہے کہ میں بادشاہ کے پاس سے ہو کر آیا ہوں۔ورنہ غالب کہتا ہے کہ میں جانتا ہوں ورنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے۔کوئی عزت نہیں ، کچھ بھی نہیں تو نبی کی عزت خدا کی مصاحبت سے پیدا ہوتی ہے اور اگر چہ وہ اتراتا تو نہیں پھرتا مگر دل میں جانتا ہے کہ خدا کے قرب کی وجہ سے اس نے سب عزتیں پائی ہیں۔پھر جب وہ کسی کو اپنا نمائندہ بنائے تو اس کو بھی کچھ ملتا ہے اس کی اطاعت میں ، اس کی غلامی میں، اس کی مصاحبت کے نتیجے میں ہی ملتا ہے ورنہ اپنی ذات میں تو کوئی آبرو نہیں۔