خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 428 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 428

خطبات طاہر جلد 15 428 خطبہ جمعہ مورخہ 31 مئی 1996ء پس وہ لوگ جو امراء سے بدتمیزیاں کرتے ہیں ، جو امراء کے خلاف سراٹھاتے ہیں اور کہتے ہیں یہ کیا امیر ہے۔اس نے فلاں بات کی ، فلاں بات غلط ہوئی ، فلاں بات غلط ہوگئی ، اس کی بات سن لی، اس کی نہیں سنی ، ان لوگوں کو مذہب کی الف ب کا بھی نہیں پتا اور یہ عدل کا فقدان ہے نظام جماعت سے جس کی طرف میں آپ کو متوجہ کر رہا ہوں اور ہالینڈ میں خصوصیت سے اس کی ضرورت ہے یا ضرورت تھی اور خدا کرے کہ اب نہ رہی ہو اور اسی طرح ڈنمارک کی بات ہے وہاں میں نے ابھی ایک وفد بھیجا تھا۔وہ ملک بھی بیمار ہے کئی پہلو سے اور بیماری کی جو بنیا د ہے اصلی آخری نقطہ یہی ہے کہ جو بھی امیر مقرر کیا جائے اس کے نقص نکالتے اس سے بدتمیزی کرتے ہیں اور ایک کے بعد دوسرے کو استعمال کر لیا جائے لیکن ان کے چال چلن میں کوئی فرق نہیں۔بوڑھے کو کیا تب اس کی عزت نہ کی ، جو ان کو کیا تب اس کی عزت نہ کی ، صاحب علم کو کیا، تب اس کی عزت نہ کی ایک عام آدمی مگر منکسر مزاج کو مقرر کیا تو تب بھی اس کی عزت نہ کی۔تو اگر ایسے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ دین پر قائم ہیں اور نظام جماعت کیا چیز ہے، معمولی سی حیثیت ہے ، ہم اس کا اگر نوٹس بھی نہ لیں ، اس کو کسی خاطر میں نہ لے کے آئیں تو ہماری احمدیت تو اپنی جگہ ہے۔ہم چندے بھی دیتے ہیں ، ہم نماز بھی پڑھتے ہیں ، ہم نے خلیفہ وقت کے ہاتھ پر بیعت کی ہوئی ہے ہمیں اور کیا ضرورت ہے۔یہ امیر اس کی کیا حیثیت ہے، یہ تو جاہل آدمی ہے۔کبھی اس کی سنتا ہے، کبھی اس کی سنتا ہے، ہماری بات تو سنتا ہی نہیں۔اس قسم کے نفس کے بہانے ہیں جو انسان کو طرح طرح کے دھوکے دیتے ہیں اور ایسا شخص عدل سے گر جاتا ہے۔عدل کا یہی تقاضا ہے کہ حضرت محمد مصطفی ﷺ نے جو حق جس کو دیا ہے اس کا حق سمجھو اور اس کے سامنے پوری محبت سے جھکو۔اب اس کی ایک اور مثال ہے کہ دیکھیں ماں باپ کے متعلق فرمایا کہ اگر بوڑھے ہو جائیں تو ان کے سامنے اف بھی نہیں کرنی۔اف نہ کرنے کا مطلب صاف ہے کہ انہوں نے کوئی زیادتی کی ہے، کوئی سختی کر بیٹھے ہیں۔یا روز مرہ کی عادتیں ایسی ہیں جو تنگ کرتی ہیں۔تو فرمایا ان کے سامنے اف بھی نہ کرنا اور حضرت محمد مصطفی ﷺ کے متعلق فرمایا کہ جس شخص کو اپنے ماں باپ ، رشتہ داروں، عزیزوں سب سے زیادہ پیارا یہ وجود نہیں ہے اس کو ایمان کا پتا ہی کچھ نہیں۔جس کے دل میں سب سے زیادہ قدر محمد رسول اللہ نے کی نہیں ہے وہ جانتا ہی نہیں کہ ایمان کیا