خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 426 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 426

خطبات طاہر جلد 15 426 خطبہ جمعہ مورخہ 31 مئی 1996ء کی جماعت کو سر جھکانے پر مجبور کیا گیا ہے۔یہ نظام ہے جس کی غلامی میں آنا آپ کے لئے آزادی کا پیغام ہے۔یہی وہ نظام ہے جس کا آغاز ہی فرشتوں کو اس حکم سے ہوا تھا جب میں آدم کو ٹھیک ٹھاک کرلوں ، جب میں اس میں روح پھونک دوں تو سجدہ کر دینا۔اب لفظ سجدہ بڑا بھاری لفظ ہے۔بہت سے علماء کو مصیبت پڑی ہوئی ہے یہ مسئلہ حل کرنے میں کہ سجدہ غیر اللہ کو اور حکم اللہ دے رہا ہے۔اگر کسی اور کا حکم ہوتا تو وہ کہہ بھی دیتے کہ غلط فہمی ہوئی ہے۔اللہ حکم دے رہا ہے کہ اے فرشتو! جو بظاہر دنیا کی سب سے بلند مخلوق ہو جب آدم کو میں برابر کر لوں۔اب دیکھیں سوی“ کا جو مضمون ہے وہ عدل کا ہے۔تو جب آپ قرآن کریم کی بچی تفسیر کرتے ہیں تو ہر آیت اس کی تائید میں اٹھ کھڑی ہوتی ہے ایک مضمون دوسری آیتوں کو دعوت دے کے بلاتا ہے کہ آؤ میرے حق میں گواہی دو۔پس عدل وہ سوی“ کا مضمون ہے جس کے بعد آسمان سے امرا تر تا ہے اور عدل کے بغیر کسی کو مامور بنایا جا ہی نہیں سکتا کیونکہ عدل اور ماموریت کا ایک از لی تعلق ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا کہ یہ آدم ہے جب اس کے اخلاق درست ہو جائیں ، جب اس کے اندر توازن پیدا ہو جائے ، جب اس کا بدن درست ہو جائے ، جب اس کی روح درست ہو جائے ،اس کا مزاج درست ہو جائے پھر میں اس میں اپنی روح پھونکوں گا۔فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُّوحِي فَقَعُوا لَهُ سُجِدِینَ ( الحجر : 30)۔جب میں اپنی روح پھونک دوں پھر تمہارا فرض ہے کہ اس کے سامنے سجدہ کرتے ہوئے گر جاؤ۔پس لفظ سجدہ پر جو مفسرین کو اور علماء کو مصیبت پڑ گئی ہے کہ یہ خدا نے کیا کر دیا کہ غیر اللہ کے سامنے فرشتوں کو حکم دے دیا کہ سجدہ کریں۔تو امر واقعہ یہ ہے کہ سجدہ میں جو کامل اطاعت کا مضمون ہے وہ یہاں پیش نظر ہے کیونکہ جو شخص سر ٹیک دیتا ہے زمین پر، جس کے ہاتھ بھی سامنے بندھے ہوئے ، جس کے پاؤں بھی ایسی حالت میں ہیں کہ کلیہ نہتا ہو جاتا ہے ، اپنے دفاع کی کچھ بھی طاقت نہیں رکھتا اور وہ فیصلہ کرنے کی بھی کوئی طاقت نہیں رکھتا کیونکہ اس کو کچھ اور دکھائی ہی نہیں دیتا سوائے مٹی اور زمین کے، جس مٹی سے وہ نکلا تھا وہی مٹی اس کی آنکھوں کے سامنے ہے اگر انسان ہو تو۔تو اس سے بڑھ کر بے اختیاری اطاعت کی اور کیا ہوسکتی ہے۔مگر خدا نے حکم دیا ہے۔پس وہ نظام کا قیام ہے جس کی حفاظت حضرت اقدس محمد مصطفی اللہ نے اس حد تک فرمائی