خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 425
خطبات طاہر جلد 15 425 خطبہ جمعہ مورخہ 31 مئی 1996ء تو ہیں لیکن وہ پابندیاں اس کو دکھ نہیں دیتیں کیونکہ وہ پابندیاں نظام قدرت کی پابند ہیں۔نظام قدرت کی کوئی پابندی آپ کو دکھ نہیں دیتی۔نظام قدرت آپ کو یہی بتائے گا نا کہ آگ میں اپنے ہاتھ نہ ڈالو، پانی میں ڈو بو نہیں اور زیادہ دیر دھوپ میں نہ بیٹھو۔اب یہ پابندیاں ہی تو ہیں مگر دیکھو کتنی فائدہ مند پابندیاں ہیں۔ضرورت سے زیادہ نہ جاگنا اور جو بدنی عیش کی خدا نے تمہیں طاقت بخشی ہے وہ توفیق کے مطابق رکھنا۔جہاں زیادتی کرو گے وہاں سب کچھ گنوا بیٹھو گے۔تو یہ پابندیاں ہیں جن کے اندر آزادیاں مضمر ہیں۔پس آپ اگر نظام جماعت کے ساتھ عدل کریں گے اور اس عدل کے تمام بار یک تقاضے پورے کریں گے تو آپ کو آزادی کے سانس نصیب ہوں گے۔آپ کو چین اور گہری طمانیت کے سانس نصیب ہوں گے۔پس اس پہلو سے آپ نظام جماعت کی حفاظت پر مستعد ہوں اور اس کے سامنے سر جھکا ئیں کیونکہ یہ خدا کے سامنے سر جھکانا ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں نظام کیا چیز ہے یونہی صلى الله خواہ مخواہ بنایا ہوا ہے نظام۔امر واقعہ یہ ہے کہ نظام خدا تعالیٰ کا قائم کردہ ہے، حضرت محمد رسول ال کا قائم کردہ ہے اور یہ جو بیعت ہے نظام کی خاطر کی جاتی ہے۔ورنہ آنحضرت ﷺ کو ماننے والے جو آپ کے ہاتھ پر بیعت کر کے بیٹھے تھے انہیں ایک کے بعد دوسرے خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت کرنے کی کیا ضرورت تھی۔اس بیعت میں جو اطاعت کا اقرار ہے اور پھر اس پر اصرار ہے اور بار بار یہ کہا جا رہا ہے کہ ہم ضرور اطاعت کریں گے یہ صاف بتا رہا ہے کہ محض دین عقائد کا نام نہیں ہے یا شریعت کے عام فرائض کو پورا کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ جو شخص با قاعدہ نظام کا جزو بن کر اس کے سامنے سر نہیں جھکاتا وہ عملاً دین سے باہر رہتا ہے۔پس آنحضرت ﷺ پر ایمان لانا ، قرآن کو سچا سمجھنا اپنی جگہ الگ مضمون تھا اور آپ کی بیعت میں داخل ہونا ایک الگ مضمون تھا۔پھر آپ کے وصال کے بعد وہ بیعت کام نہیں آئی حالانکہ محمد رسول اللہ ﷺ سے کی ہوئی بیعت سے بڑھ کر اور کون سی بیعت ہو سکتی تھی۔ہر شخص کو مجبور کر دیا گیا کہ حضرت ابوبکر صدیق کے ہاتھ پر بیعت کرے اور جب آپ کا وصال ہوا تو حضرت عمر کے ہاتھ پر بیعت پر مجبور کر دیا گیا۔حضرت عمرؓ کا وصال ہوا تو عثمان کے ہاتھ پر۔آپ کا وصال ہوا تو حضرت علیؓ کے ہاتھ پر۔رضوان اللہ علیہم۔وہ لوگ جب نظام کا نمائندہ بنے ہیں تو ان کے سامنے تمام مسلمانوں