خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 424 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 424

خطبات طاہر جلد 15 424 خطبہ جمعہ مورخہ 31 مئی 1996ء صلى الله ہے۔وہ دوڑتا پھرتا ہے، صحت اس کی اچھی ، اس کے سانس ہلکے، وہ ہر اچھے کام میں حصہ لے سکتا ہے شوق سے۔اس کا سونا آرام دہ ہے۔اس کا جاگنا آرام دہ ہے۔اس کے روز مرہ کے کاموں میں کوئی تکلیف نہیں۔نہ گھٹنوں میں دردیں ہیں نہ کو ہنیوں میں۔ہر بدن کا حصہ ہلکا پھلکا اور ہر کام کے لحاظ سے متوازن ہے۔تو ایک طرف غلامی ہے دوسری طرف اسی غلامی کے نتیجے میں ایک آزادی نصیب ہوتی ہے اور جہاں قانون قدرت کی یعنی خدا کے نظاموں کی غلامی ہو وہاں اس کے مقابل پر ضرور آزادی ملتی ہے۔بعینہ یہی حال الہی مذہبی نظام کا ہے اور خدا تعالیٰ واضح فرماتا ہے کہ دیکھو یہ ہے غلامی ہی مگر دراصل یہ ہر آزادی سے بہتر غلامی ہے۔چنانچہ آنحضرت ﷺ دنیا کی مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ مومن کا قید خانہ ہے اور کافر کی جنت ہے۔(مسلم، کتاب الزهد والرقائق ) اب دیکھو خدا کے رسول ﷺ نے اس دنیا کو قید خانہ بتا دیا ہے اور مومن کی ساری زندگی قید خانے میں بسر ہوگی اور کافر کے لئے جنت قرار دیا ہے اس کو مگر وہ جو مومن بھی ہوں اور آزاد بھی ہوں پھر وہ کس شمار میں آئیں گے۔پس مومن کے ساتھ نظام صلى الله جماعت کی قید و بند ایک لازمہ ہے اس کے بغیر آپ آنحضرت ﷺ کی بیان کردہ مومن کی تعریف میں داخل ہی نہیں ہوتے لیکن ایک دفعہ داخل ہو جائیں وہ پابندیاں قبول کر لیں تو آپ کا روحانی بدن اتنا ہلکا پھلکا ہو جاتا ہے، اتنے مزے کی زندگی بسر ہوتی ہے کہ کسی قسم کی عقوبت کا خوف نہیں رہتا، کچھ چھپانے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔سِرًّا وَ عَلَانِيَةً میں ایک یہ بھی مضمون ہے کہ جو کچھ چھپاتے ہیں وہ ظاہر بھی کر سکتے ہیں۔جو ظاہر کر سکتے ہیں وہ چھپا بھی سکتے ہیں۔وہ وقت اور محل کی بات ہے ورنہ اپنی ذات میں جوان کا سرا ہے اگر ظاہر ہو تو ان کے لئے ایک بے حیائی اور شرمندگی کا موجب نہیں بن سکتا۔وہ جب چاہیں اسے ظاہر کریں وہ ظاہر ہوگا تو حسن میں اضافہ ہی کرے گا ، اس میں کمی نہیں لائے گا۔پس عجیب وغریب ایک یہ بظاہر متضاد مضمون ہے مگر ہے بالکل سچا کہ جو دنیا کا غلام ہے اس کا اپنا کچھ بھی نہیں۔وہ ہر چیز سے عاری ہے اور حقیقت میں اس کے باوجود وہ آزاد محسوس کرتا ہے اپنے آپ کو۔دنیا کا غلام ہونے کے باوجود وہ سمجھتا ہے کہ میں جنت میں ہوں اور امر واقعہ یہ ہے کہ جنت میں نہیں ہوتا اور جو دنیا کی غلامی سے آزاد ہو جاتا ہے جو خدا کا غلام بن جاتا ہے اس کے اوپر پابندیاں