خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 423
خطبات طاہر جلد 15 423 خطبہ جمعہ مورخہ 31 مئی 1996ء وہ سمجھتا ہے کہ میں آزاد ہوں اور احمدی غلام ہیں اور ہر وقت کی مصیبت۔یہ بات ہو تو نظام سے پوچھو، بیٹھنا ہو تو نظام سے پوچھو، کیا مصیبت ہے یہ۔کہاں یہ اور کہاں ہم جو مرضی کریں۔سکھ سے شادی کریں ،عیسائی سے کریں، کسی دہریہ سے کرلیں۔رسمیں منانی ہوں تو منائیں۔کون ہے جو ہمارے معاملے میں دخل دے۔شراب خانے کھولیں ، ان کے اوپر ختم قرآن کروائیں۔لوگ آئیں اور شوق سے حصہ لیں۔مجال ہے کسی کی جواب کھولے کہ تم نے کیوں ایسا کیا۔ایک یہ وہ آزادی ہے اور ایک طرف نظام جماعت ہے جس نے دیکھو کتنا پابند کر رکھا ہے لیکن مملوک وہ ہے جس کا اپنا کچھ بھی نہ رہا، کلیہ اس کی ہر چیز دنیا کے لئے ہو گئی ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ میں آزاد ہوں حالانکہ وہ ہر پہلو میں، ہر بات میں غلام بن گیا ہے رسم و رواج کا ، لوگوں کے دیکھنے کا ، ریا کاری کا اور نفسانی خواہشات کا۔پس جو اپنے نفس کا غلام بن جائے ، جو دنیا کی نظروں کا غلام ہو جائے ، جس کا اٹھنا بیٹھنا خدا کےسوا دوسرے مقاصد کے لئے ہو جائے وہ مملوک ہوتا ہے اور وہ شخص انصاف سے عاری ہو جایا کرتا ہے لیکن جماعت احمدیہ کا جو نظام ہے اب میں نظام کی بات کر رہا ہوں۔نظام جماعت ایک ایسا نظام ہے جو قانون قدرت کی طرح آپ کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے۔اب کوئی شخص کہہ سکتا ہے دنیا میں کہ عجیب قدرت ہے مصیبت پڑی ہوئی ہے۔آگ میں ہاتھ نہ ڈالو اور زیادہ ٹھنڈی ہوا نہ کھاؤ ، کپڑے گرم پہنو سردیوں میں گرمیوں میں ٹھنڈے کپڑے پہنو اور بھوک لگے تو یہ کرو، بھوک نہ لگے تو فلاں کام کرو، اٹھو بیٹھو، سوؤ ، جا گومگر توازن رکھو۔کھانا کھاؤ مگر بھوک ختم ہونے سے پہلے ہاتھ روک لو یعنی وہ قانون قدرت جو تقاضے کرتا ہے۔عیش کرو مگر ایک حد تک۔جا گومگر ایک حد تک۔دیکھو پابندیاں ہیں کہ نہیں اور یہ وہ پابندیاں ہیں جوخدا تعالیٰ نے خود کہہ کر عام بندوں پر نہیں لگائیں مگر تمام دنیا کا نظام برابر ہر انسان پر پابندی لگائے ہوئے ہے اور جہاں بھی اس پابندی کے تقاضے سے بچ کر کوئی انسان نہیں چلتا وہاں ضرور اس کو سزا ملتی ہے۔کئی لوگ وقت سے پہلے بوڑھے ہو جاتے ہیں۔کئی لوگ ہیں جو پہلے اپنی امارت کی وجہ سے خوب کھاتے ہیں ، خوب عیش کرتے ہیں مگر کچھ دیر کے بعد معدے بھی جواب دے جاتے ہیں ، دوسرے اعضاء بدن کے جواب دے دیتے ہیں اور ساری زندگی پھر رونے پیٹنے اور مصیبتوں میں صرف ہوتی ہے۔تو قانون قدرت اپنی سزا دیتا ہے اور اس نے پابند رکھا ہوا ہے۔مگر جو قانون قدرت کا پابند رہتا ہے دیکھو کتنی آزادی سے سانس لیتا