خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 422
خطبات طاہر جلد 15 422 خطبہ جمعہ مورخہ 31 مئی 1996ء آنحضرت ﷺ نے جہاں بھی عدل سے گریز فرمایا ہے اپنی قربانی دے کر عدل سے گریز کیا ہے، اپنے خلاف عدل سے گریز کیا ہے۔کسی دوسرے کے خلاف نہیں کسی دوسرے کی خاطر کیا ہے اور اس قربانی میں آپ کی بدنی قربانی ضرور شامل ہوئی اور اس وجہ سے خدا تعالیٰ نے صرف نظر نہیں فرمایا۔تو ان تمام باتوں کو سمجھتے ہوئے سب سے پہلے تو آپ کو معاشرے میں عدل کا قیام کرنا ہے، اپنے تعلقات میں اور اپنے گھر میں، اپنی اہلیہ سے،اپنے بچوں سے،اپنے عزیز و اقارب سے، اپنی حکومت سے، نظام جماعت سے، جو ان کے حقوق ہیں وہ ان کو ادا کرنے ہیں۔جوان کے تقاضے ہیں وہ آپ نے پورے کرنے ہیں۔عدل پر قائم ہوں گے تو پھر اگلا قدم احسان کا شروع ہوگا اس سے پہلے ناممکن ہے۔جرمنی کے اجتماع میں بھی میں نے خدام کو کچھ عدل کے متعلق سمجھایا تھا اور میں سمجھتا ہوں کہ چونکہ یہ مضمون بہت ہی وسیع ہے اس لئے آج آپ کے اجتماع میں جو جماعت کا اجتماع ہے اسی مضمون کے بعض دوسرے پہلوؤں کو روشن کرتا ہوں۔نظام جماعت میں عدل کے تقاضے بعض دفعہ بہت باریک ہو جاتے ہیں اور الجھے ہوئے ہوتے ہیں یہاں تک کہ ایک انسان ان کو پوری طرح نہ سمجھنے کے نتیجے میں کئی دفعہ نظام جماعت کی بے حرمتی پر اتر آتا ہے اور اس کی سزا اس کو ضرور ملتی ہے کیونکہ خدا کے نظام سے جو شخص ٹکرائے اسے کبھی صحیح سالم بچتا ہوا نہیں دیکھا گیا۔یہ بالکل الگ بحث ہے کہ وہ سچا تھا یا جھوٹا تھا۔نظام ایک ایسی چیز ہے جیسے قانون قدرت ہے۔کوئی شخص اپنا حق سمجھتے ہوئے اگر آگ میں ہاتھ ڈالے گا اور اس کی کوئی چیز اس میں گری ہوئی ہے وہ کہے کہ میرا حق ہے میں ضرور نکالوں گا تو آگ اسے ضرور جلائے گی۔یہ ناممکن ہے کہ خدا کے نظام کے اوپر کوئی غالب آ سکے خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا ہو۔اس کی میں مثال آپ کے سامنے رکھ چکا ہوں۔پس نظام جماعت کوئی معمولی نظام نہیں ہے۔یہ قانون قدرت کی مثال ہے جس کے اوپر خدا تعالیٰ نے روحانی نظام جاری فرمائے ہیں اور جیسے قانون قدرت آپ کی بقا کے لئے لازم ہے اور اس کے بہت سے پہلو ہیں اسی طرح نظام جماعت بھی آپ کی انفرادی بقا کے لئے لازم ہے۔اگر نظام جماعت نہ ہو تو کسی کی روحانی زندگی کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔باقی لوگوں کا حال دیکھو کیا ہوا ہے۔کس طرح تتر بتر ہو کر بکھر گئے ہیں۔کیسے اجتماعیت بٹ کر آخر انفرادیت میں بدل گئی اور ہر شخص آزاد ہے اور وہ اس آزادی کے مزے لے رہا ہے یعنی بظاہر