خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 420 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 420

خطبات طاہر جلد 15 420 خطبہ جمعہ مورخہ 31 مئی 1996ء يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (الشعراء: 4) کیا تو اپنی جان کو ہلاک کر لے گا اس غم میں کہ وہ مومن نہیں ہوتے ، وہ ایمان نہیں لاتے۔اب ظاہر بات ہے کہ عدل کا فقدان تو ہے یعنی اپنے نفس کا جو حق ادا کرنا تھا وہ ادا نہیں کیا جارہا اس لئے کہ دوسرے بچ جائیں اور یہ غم جن دعاؤں میں ڈھلتا ہے وہ دعائیں ان کو بچالیں۔تو طاقت سے بڑھ کر بوجھ اٹھایا گیا ہے اور جس طرح مائیں جب طاقت سے بڑھ کر بوجھ اٹھاتی ہیں تو یہ عذر ان کا پیش نہیں جاتا کہ ہم نے تو بچے کی خاطر، نیکی کی خاطر قربانی کی تھی اس لئے قانون قدرت کو اپنا ہاتھ روک لینا چاہئے۔قانون قدرت کا جو عدل ہے وہ سب سے بالا ہے اور وہ اللہ کا عدل ہے۔وہ اپنے انبیاء پر بھی چلتا ہے اور ان پاکبازوں پر بھی چلتا ہے جو خدا کی خاطر عدل سے گریز کر رہے ہیں بظاہر۔تو دیکھو کتنا باریک مضمون ہے۔میں نے آپ کو جو مثال دی تھی وہ یہی سمجھانے کے لئے کہ آپ یہ سن کر کہ جی عدل بڑا ضروری ہے سب جگہ ہونا چاہئے ہر گز اطمینان نہ پائیں کہ آپ کو اس مضمون کی سمجھ آگئی ہے۔بہت ہی گہرا اور بہت ہی لطیف مضمون ہے۔پس حضرت اقدس محمدی ﷺ نے جب اپنی جان پر بوجھ اٹھایا اور زیادہ اٹھایا اور اللہ نے نصیحت فرمائی کہ کیا تو ان ظالموں کی خاطر اپنے پاک نفس کو ہلاک کر لے گا تو اس کا نتیجہ بھی نکلا اور وہ یہ تھا کہ آپ کے بال عمر سے پہلے ہی سفید ہو گئے اور بالوں کا سفید ہونا بعض دفعہ گہرے غم کے نتیجے میں ہوتا ہے۔پس لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ کا مضمون تھا جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے تو ہو د قوم نے بوڑھا کر دیا۔وہ ہود قوم جس کے لئے سورہ ہود نازل ہوئی۔کیسا گناہ انہوں نے کیا، کیسا ظلم کمایا کہ پوری قوم صفحہء ہستی سے مٹادی گئی کتنی دیر پہلے، ہزاروں سال پہلے کا ایک واقعہ رسول اللہ اللہ کے دل پر اتنا گہرا اثر ڈال دیتا ہے کہ وہ ہود کے غم میں بوڑھے ہو جاتے ہیں۔فرماتے ہیں تمہیں تو اور چیزوں نے بوڑھا کیا ہوگاشیتنی هود مجھےتو سورہ ہود نے بوڑھا کر دیا ہے۔(جامع الترمذي ، أبواب تـفسيـر القـرآن ، باب ومن سورة الواقعة ) مگر بوڑھے ہوئے تو ہوئے ، بال تو سفید ہوئے قانون قدرت نے اپنا ہاتھ نہیں روکا۔تو دیکھیں عدل کا مضمون جب ایک دوسرے کے متقابل آتا ہے تو کتنے نئے رنگ دکھاتا ہے۔اللہ کا عدل ہے جس نے کہا کہ میرا قانون ہر انسان پر برابر چلے گا اور سب سے زیادہ محبوب نبی ﷺ کے او پر بھی اس وقت اثر دکھا رہا ہے جب وہ خدا کی خاطر کر رہا ہے۔فرمایا اس کی قیمت تو تمہیں دینی