خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 421
خطبات طاہر جلد 15 421 خطبہ جمعہ مورخہ 31 مئی 1996ء پڑے گی۔یہ میرا قانون قدرت ، عام قانون کا عدل ہے اور جہاں تک تمہاری قربانی کا تعلق ہے وہ میرے ذمہ ہے۔اس کا اتنا بدلہ ہو گا کہ اس کا تصور بھی عام انسان نہیں کر سکتا۔تو احسان کا بدلہ احسان کے ساتھ جاری ہے۔عدل کا بدلہ عدل کے ساتھ جاری ہے اور پھر عدل کرنے والوں کے اندر بھی بڑا فرق دکھایا گیا ہے۔کچھ اپنے نفس کی خاطر عدل کرتے ہیں ، کچھ اور مقاصد کی خاطر عدل کرتے ہیں، کچھ حسن واحسان کی خاطر عدل کرتے ہیں۔اسی عدل کی ایک عجیب مثال ایک بزرگ کے واقعہ میں یا اس کی کہانی میں بیان کی گئی ہے جس میں حسن اور عدل کا موازنہ کیا گیا ہے یا حسن واحسان اور عدل کا موازنہ کیا گیا ہے۔کہتے ہیں ایک بزرگ جنگل میں بیٹھا اللہ تعالیٰ کی یاد میں محو تھا کہ اتنے میں ایک ڈری ہوئی، پھڑ پھڑاتی ہوئی فاختہ اس کی گود میں آگری ، جو زندہ تھی لیکن جیسے گھبرا کر کسی خطرے سے بھاگتے ہوئے اس کے اندر مزید دم نہیں رہا تھا کہ وہ آگے بڑھ سکے اور اس نے اس کو اپنی جھولی میں لیا اور پیار سے اس کو سنبھالا تو اتنے میں ایک باز اس کا پیچھا کرتا ہواوہاں پہنچا۔اب یہ کشفی نظارہ اس نے دیکھا کہ باز اس سے مخاطب ہو کر کہنے لگا کہ یہ خدا نے میرے لئے شکار بنایا ہے اور قانون قدرت ہے۔تم مجھے ظالم نہیں کہ سکتے۔جس نے میری غذا یہ مقرر کی ہے وہ جانتا ہے کہ کیوں ایسی غذا مقرر کی گئی ہے۔مگر یہ میری غذا ہے اور میں نے بڑی محنت کی، میں اچک لیتا اس کو مگر تم بیچ میں حائل ہو گئے ہو۔تمہیں کس نے حق دیا ہے کہ اس پرندے کو مجھ سے روک لو کیونکہ مجھے تو خدا نے یہی رزق عطا فر مایا ہے اور اب عدل اس کا للکارا گیا اور عدل کے تقاضے کے پیش نظر اسے وہ فاختہ بہر حال واپس کرنی تھی۔مگر احسان اس فاختہ کی حمایت میں اٹھ کھڑا ہوا اور اس بزرگ نے اس پرندے کو یعنی باز کو اس کشفی حالت میں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تمہیں خدا نے گوشت رزق کے طور پر بخشا ہے۔لیکن کہیں خدا نے یہ قانون نہیں بنایا کہ فاختہ ہی کا گوشت ہوگا۔انسانی گوشت اس سے بھی بہتر ہے۔پس میں اپنے جسم کا ایک ٹکڑا اتنا کاٹنے کے لئے تیار ہوں جتنا تمہارا پیٹ بھر جائے اور یہ کہہ کر اس نے چاقو نکالا اور اپنی ران سے ایک گوشت کا ٹکڑا کاٹ کر اس پرندے کو دے دیا۔یہ احسان اور عدل کا ایک عجیب موازنہ ہے جو کشفی صورت میں پیش کیا گیا کہ ایک شخص جب احسان کرتا ہے تو پھر اسے قربانی کرنی پڑتی ہے۔عدل کو پھر بھی قائم رکھنا ہو گا مگر وہاں عدل کا قیام اس کی ذاتی قربانی چاہتا ہے۔