خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 419 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 419

خطبات طاہر جلد 15 419 خطبہ جمعہ مورخہ 31 مئی 1996ء اپنے سے عدل کی تفصیل میں اگر آپ جائیں تو آپ کو انسان کی جسمانی صحت اور روحانی صحت کے تمام پہلوؤں پر نظر ڈالنی پڑے گی۔وہ شخص جو اپنی ذات سے عدل کرتا ہے اس کے لئے ایک ایسی با قاعدہ زندگی ہونی ضروری ہے کہ جہاں وہ آرام کے وقت آرام کرے گا اور محنت کے وقت محنت کرے گا اور یہ وہ عدل ہے جس سے بعض دفعہ خدا کے بندے بھی جو بہت بلند مرتبہ والے ہیں کسی حد تک عاری ہو جاتے ہیں۔پس اللہ کے سوا کسی کو نہ کامل عدل کی توفیق ہے ، نہ وہ اپنے سے عدل کرسکتا ہے ، نہ غیر سے عدل کر سکتا ہے۔مگر ہاں جو خدا والے ہوں ان کو کم سے کم غیروں کے معاملے میں عدل کرنے کی ضرور توفیق مل جاتی ہے۔پس ایک ہی موقع ہے جہاں خدا کے بندے عدل سے عاری دکھائی دیتے ہیں وہ اپنی ذات کے معاملے میں عدل ہے۔اس پہلو سے وہ ظالم کہلاتے ہیں مگر ان کے ظلم میں ایک احسان کا پہلو ہوتا ہے۔اس لئے یہاں عدل کا فقدان ایک بدصورتی کی بجائے ایک خوبصورتی کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے۔اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے عام دنیا میں ماں بچے سے پیار کے نتیجہ میں اپنے سے عدل نہیں کرتی۔اب عدل نہ کرنا ایک خرابی ہے۔جو انسان اپنی طاقت سے بڑھ کر بوجھ اٹھالے اس کو اس کا نقصان پہنچے گا اور یہ عدل کے فقدان کی ایک طبعی سزا ہے جو قانون قدرت میں جاری ہے، کوئی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔تو ایک ماں جب اتنا جاگتی ہے کہ اس کے بدن میں طاقت نہیں ہے اتنا جاگنے کی، اتناغم دل پہ لے لیتی ہے کہ اس کے اعصاب میں طاقت نہیں کہ وہ غم برداشت کر سکے۔اس کی سزا تو اس کو ضرور ملتی ہے۔مگر یہ گناہ کی سزا نہیں یہ خطا ہے جس کا بدلہ دیا جاتا ہے۔پس عدل کے فقدان میں بعض دفعہ خطا ہوتی ہے بعض دفعہ گناہ بن جاتا ہے یعنی عدل کا فقدان گناہ بن جاتا ہے۔پس وہ عدل کا فقدان جو کسی پر احسان کے نتیجہ میں ہوا سے گناہوں میں شمار نہیں کیا جاتا۔وہ عدل کا فقدان جو احسان کے نتیجہ میں ہوا سے ایک بشری کمزوری کہا جاتا ہے۔یا حسن میں اتنا بڑھ جانا اور احسان میں اتنا آگے نکل جانا کہ اپنے بدن کو قربان کئے بغیر انسان وہ خدمت نہیں کر سکتا۔صلى الله اس پہلو سے حضرت اقدس محمد ملنے کے لئے جہاں بھی ظلم کا لفظ استعمال ہوا ہے وہاں آپ کے بے انتہا احسان کو ظاہر کرنے کے لئے ہوا ہے۔اب وہ آیت کریمہ جس کی بار بار آپ کے سامنے تلاوت کی جاتی ہے میں کئی دفعہ حوالے دے چکا ہوں۔لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا