خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 408
خطبات طاہر جلد 15 408 خطبہ جمعہ مورخہ 24 مئی 1996ء پس میں جو اتنے اصرار کے ساتھ بات کر رہا ہوں ، نعوذ باللہ یہ مراد نہیں کہ میں خواہ مخواہ بے وجہ جماعت کی بدنامی کرا رہا ہوں۔میں جماعت کی نیک نامی چاہتا ہوں اور بڑے گہرے درد کے ساتھ یہ باتیں محسوس کر کے آپ کو بتا رہا ہوں کہ آپ جھوٹ سے پاک نہیں ہوئے۔آپ کے گھروں کے کونوں کھتروں میں، آپ کے دلوں میں کواڑوں کی اوٹ میں ابھی جھوٹ کے گند پڑے ہوئے ہیں۔ان ڈھیروں کو اٹھا کر باہر نکالیں۔خدا کے حضور گر کر ،گریہ وزاری سے اپنے آنسوؤں سے اپنے باطن کی صفائی کریں، اپنے باطن کو ہر گندگی سے پاک کرنے کی کوشش کریں۔اللہ تعالیٰ نے بہت فضل فرمائے ہیں ہم پر اور جماعت جرمنی بطور خاص ان فضلوں کا مظہر بنی ہوئی ہے۔دو باتیں ایسی ہیں جماعت جرمنی کی جن کی وجہ سے خصوصیت سے اس جماعت کے لئے میرے دل میں محبت بھی ہے اور دعائیں بھی نکلتی ہیں۔ایک یہ کہ جب بھی میں نے کوئی نیک کام کہا اتنی سنجیدگی کے ساتھ ، اتنی محنت اور کوشش کے ساتھ ساری جماعت جت جاتی ہے کہ تناسب کے لحاظ سے مجھے اور کہیں یہ تناسب دکھائی نہیں دیتا۔بہت سے ممالک میں بہت اچھے اچھے کام ہور ہے ہیں۔آپ کی طرح بہت اچھی ٹیمیں کام کر رہی ہیں مگر جس نسبت سے جماعت جرمنی کے افرادان نیک کاموں میں باقاعدہ منظم طور پر حصہ لیتے ہیں اس تناسب کے متعلق میں عرض کر رہا ہوں کہ یہ تناسب آپ کو باقی سب جماعتوں سے زیادہ حاصل ہے۔دوسرا یہ کہ دعوت الی اللہ کے معاملے میں جس ہمت اور صبر اور استقلال کے ساتھ اور حکمت کے ساتھ باقاعدہ مضبوط اور مربوط ٹیمیں بنانے کے ساتھ آپ لوگوں نے محنت کی ہے ایسی محنت مجھے دنیا کی کسی اور جماعت میں دکھائی نہیں دیتی۔ہاں افریقہ میں ضرور یہ ہورہا ہے اور آپ کے مقابل پر زیادہ پھل لگ رہے ہیں۔مگر ان افریقی جماعتوں میں احمدی بحیثیت احمدی افراد کے ہرگز اس نسبت سے خدمت دین میں ملوث نہیں ہیں جس طرح آپ ہیں۔وہاں کا نظام اور ہے۔وہاں مربی چند ٹیمیں اپنے ساتھ بنالیتے ہیں اور چونکہ اس قوم میں ایک خاص قسم کی سعادت پائی جائی ہے اس لئے بعض دفعہ ایک ایک وقت میں دس دس ہیں ہیں ہزار آدمی بھی جب ان کے مقامی لیڈر بات مانتے ہیں تو وہ بھی ساتھ مان جاتے ہیں۔یہاں یہ صورت حال نہیں۔مگر جہاں تک افراد جماعت کی نسبت کا تعلق ہے میں پورے یقین اور وثوق کے ساتھ یہ کہ سکتا ہوں کہ تناسب کے لحاظ سے خدا تعالیٰ کے