خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 384
خطبات طاہر جلد 15 384 خطبہ جمعہ مورخہ 17 مئی 1996ء پالیا تو عبادتوں کی کیا ضرورت ہے۔خواہ مخواہ پانچ وقت کی نمازیں اور شریعت کی پابندی یہ چیزیں تو خدا کے حصول اور اس کی تلاش کے لئے ہیں۔جب ہم نے پاہی لیا تو پھر کیا ہے۔مگر حضرت مصلح موعود بات کو سمجھ گئے اور کیسا عمدہ جواب دیا کہ تم اس کو پانے کا دعویٰ کر رہے ہو جو لا محدود ہے اور تم محدود ہو۔اس لئے جہاں یہ دعویٰ کیا وہیں غرق ہو جاؤ گے۔تو تکبر ہے جو انسان کو غرق کر دیتا ہے اور تکبر بھی اندھیروں کی پیداوار ہے۔کبیر کہلانے کا حق صرف اس کا ہے جو جانتا ہے۔پس دیکھیں اس آیت کے ہر لفظ کو ہر لفظ کے ساتھ خدا نے ایسے رشتوں میں باندھا ہے کہ وہ ظاہری طور پر بھی دکھائی دیتے ہیں اور گہرائی میں بھی مسلسل چلتے ہیں۔پس اگر تم کوئی بلندی چاہتے ہو ، اگر عظمت چاہتے ہو تو اللہ کے علم میں غرق ہو جاؤ اس کے علم کو اپنالو، اس کے علم کے سائے تلے چلو تب تمہارے لئے بچنے کا امکان ہے اور پھر تمہاری حفاظت ہوگی۔اگر ایسا نہیں کرو گے تو تمہاری نہ نیکی کی کوئی قیمت ہے نہ بدی کی کوئی حیثیت سب کچھ خدا کی نظر میں برابر ہی ہیں۔یکساں دنیاوی زندگی بسر کر رہے ہو کبھی نیکی کے نام پر کبھی بدی کے شوق میں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے پھر فرماتے ہیں: یہ حالت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان کامل طور پر اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی صفات پر ایمان لاتا ہے اور اس کے ساتھ اسے ایک صافی تعلق پیدا ہوتا ہے۔دنیا اور اس کی چیزیں اس کی نظر میں فنا ہو جاتی ہیں۔( ملفوظات جلد 5 صفحہ 665) یعنی اخفاء کی انتہا جو ہے یہ تب ہی نصیب ہوتی ہے کہ سب دنیا نظر سے غائب ہو جائے کوئی دیکھ ہی نہ سکے یہی میں آپ کو سمجھا رہا تھا کہ یہ وہ حالت تھی جس کو مسیح موعود نے پایا اور ایک اور سوال کے جواب میں اس کو ظاہر فرما دیا۔یہاں آپ غائبانہ حوالے سے باتیں کر رہے ہیں اپنا مضمون نہیں بتار ہے۔اس کو بھی اخفاء میں رکھا ہوا ہے کہ میں خود اس تجربے سے گزرا ہوں۔میں جانتا ہوں کہ اس کے بغیر یہ بات نصیب ہو ہی نہیں سکتی کہ اللہ کا تعلق اتنا بڑھ جائے اور اس کی ہمہ وقت حاضری اس کے سامنے یا آپ کی خدا کے حضور ہمہ وقت حاضری یہ مضمون ساری زندگی کے ہر پہلو پر اتنا غالب آجائے کہ باقی گویا کچھ بھی نہیں رہا، ہر دوسری چیز فنا ہوگئی ہے پیچھے ہٹ گئی ہے۔اس وقت پھر خدا تعالیٰ