خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 385 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 385

خطبات طاہر جلد 15 385 خطبہ جمعہ مورخہ 17 مئی 1996ء اس آخری مقام کی نیکی کی توفیق بخشتا ہے جو اسرار میں سب سے بڑھ کر سر ہے یعنی دنیا سے چھپا ہوا اور خدا کے تعلق کا وہ سر جس کا اس بندے کے سوا جس کا خدا سے وہ تعلق ہے کسی کو علم نہیں ہوتا۔پس یہاں سر دو معنوں میں ہے ایک یہ کہ دنیا کی نظر سے جب وہ غائب ہو جاتا ہے یا دنیا کو غائب کر دیتا ہے تو ایک راز ہے جو کسی کو معلوم ہو ہی نہیں سکتا۔جس نے مسیح موعود علیہ السلام سے بھی اپنی نیکی چھپائی جیسا کہ مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے اب اس کے دفاع میں بیان فرمار ہے ہیں کہ میں اس کے اس فعل کو تکبر نہیں سمجھتا بلکہ اس کی ایک حالت ہے اور اس حالت کے بغیر اگر ایسا کرو گے تو یہ بھی ریا کاری ہے اور یہ بھی اپنے نفس سے چھپنے کی بات ہے۔اس لئے طبعی حالتوں کے ساتھ ان نیکیوں کو ادا کرو یہ بھی بڑا ضروری ہے۔یہ نہیں کہ آج میرا خطبہ سنا تو کل مجھ سے چھپا چھپا کے کریں اور سمجھیں کہ آپ نے اس مقام کو پالیا ہے۔کسی بت بنانے سے بت کی شکل کا وہ انسان تو نہیں بن جایا کرتا یہ وہ گہری حقیقتیں ہیں جو زندہ حقیقتیں ہیں۔بت بنانے سے ان بتوں میں جان نہیں پڑ سکتی۔اس لئے یہ حقیقتیں آپ کو بھی تب زندہ کریں گی اگر یہ خود زندہ ہوں گی۔تو جہاں تقویٰ کے ساتھ سچائی کے ساتھ دل کا ایک جذ بہ مختلف امکانات سے گزرتا ہوا آخر ایک فیصلہ تک پہنچتا ہے اور وہ ایک ایسے اختفاء کا فیصلہ ہے جس میں اور کوئی دنیا کا انسان اس سے باخبر نہیں ہوتا یہ وہ سر ہے جو اس کی نیکی کو حاصل ہوا جو ہر چیز سے چھپ گئی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں یہ اس شخص کو زیبا ہے اور اسی کو اس کی توفیق ہے جس کی نظر میں ہمہ وقت خدا موجود ہے۔یہ ہے وہ اہم نکتہ جس کو سمجھے بغیر آپ اس نیکی کی نقل بھی ماریں گے تو نیکی کو ضائع کر دیں گے۔اگر انسان کلیتہ اپنی نیکی کو ہر دوسرے وجود سے چھپالے تو اس سے بڑا پاگل پن کوئی نہیں سوائے اس کے کہ اس وجہ سے چھپایا گیا ہو کہ جس کی خاطر ہے جو ہمہ وقت حاضر ہے اس کی نظر میں آچکی ہے اور مجھے کوئی ضرورت نہیں کہ اب کوئی اور اس کو دیکھے یا نہ دیکھے۔پس ہمہ وقت خدا کے وجود کا تصور اور اس کی حاضری ہی ہے جو سر کو نیکی بنادیتی ہے اور یہ سر جب نیکی بنتا ہے تو ایک سرنہاں بن کر جو اللہ کے عشق اور اللہ کی محبت کا سر ہے اس کے دل کو روشن کر دیتا ہے۔اچانک اس سو میں سے ایک اور سر جاگ اٹھتا ہے وہ اللہ کی ایسی محبت کا سر ہے جو خدا کو اس سے ہے، اس کو خدا سے ہے۔دنیا میں کوئی بھی اس کا شریک نہیں کسی کو علم نہیں ہوتا کہ یہ محبت کیسے پیدا ہوئی، کیا ہے، کیا اس کی حقیقت ہے