خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 383
خطبات طاہر جلد 15 پایا ہے وہ بھی کھویا جاتا ہے۔383 خطبہ جمعہ مورخہ 17 رمئی 1996ء ایسے ایسے لوگ بھی آپ دیکھیں گے جنہوں نے کچھ پایا اور اس پانے کے تکبر نے ہی ان کو ہلاک کر دیا۔بڑے بڑے سر اونچا لئے پھرتے ہیں۔کوئی ایک راز اتفاقاً مل گیا جو معمولی بات ہے۔عارف باللہ کو تو روزانہ خدا تعالیٰ بے شمار نکات عطا فرماتا ہے اور وہ جھک کر قبول کرتا ہے، وہم وگمان میں بھی نہیں آتا کہ میری کوئی چالا کی ہے لیکن ایسے ایسے بے وقوف بھی آپ کو نظر آئیں گے جو ایک بات پکڑ کے بیٹھ گئے ہیں اور بار بار وہ پوچھتے پھرتے ہیں لوگوں سے کہ اس کا جواب دو۔گویا میرے سوا کوئی اس کا جواب نہیں جانتا۔وہ چھوٹا سا کوئی چٹکلہ بے حقیقت ، بے معنی اور اسی چٹکلے کے تکبر میں مبتلا ہو کر اگر کوئی نیکی تھی بھی تو وہ بھی برباد کر بیٹھتے ہیں۔کئی ایسے آدمی میرے علم میں ہیں بعضوں سے میری گفتگو ہوئی، بعضوں کے متعلق مجھے بتایا گیا کہ انہوں نے یہ سوال کیا ہم نے بہت پھرا ہے بہت دیکھا ہے اس سوال کا جواب کسی نے نہیں دیا۔مراد یہ نہیں کہ سوال کے جواب کی تلاش ہے۔مراد یہ ہوتی ہے کہ ہمیں پتہ ہے تمہیں کچھ پتا نہیں اور آپ لاکھ ان کو سمجھانے کی کوشش کریں وہ سر ہلاتے رہیں گے کہ نہیں۔اصل بات بتائیں گے نہیں کیونکہ وہ بات ہوتی کچھ نہیں ، بے حقیقت کی بات ہوتی ہے اور سر پھیر کے چلے جاتے ہیں کہ ہمیں یہاں سے بھی جواب نہیں ملا۔ایسے ایک دو آدمیوں سے واسطہ پڑا اور اللہ تعالیٰ نے توفیق بخشی کہ ان کی نفسانی حالت کو سمجھتے ہوئے ان کو لوگوں کے سامنے بہر حال لاجواب کر دیا۔وہ سراٹھا کے نہیں واپس جا سکا اور اتنی بھی توفیق نہیں ملی کہ کہہ دے کہ ہاں میری تسلی ہوگئی ہے۔تو تسلی بھی خدا کا کام ہے وہ بھی بندے کے بس کی بات نہیں۔حضرت مصلح موعود کی خدمت میں بھی ایک ایسا صوفی پہنچا تھا ایک بار اور بڑے اس نے تکبر کے ساتھ کہا کہ میں چند سوال لے کے آیا ہوں میرے جواب دیں آپ فوری طور پر۔آپ نے فرمایا بتاؤ۔اس نے کہا کہ یہ بتائیں اگر کوئی کشتی پر سفر کر رہا ہواور کنارہ آجائے اور کنارے پر پہنچنے کے بعد کشتی میں بیٹھا ر ہے اس کو آپ کیا سمجھیں گے۔اس کو آپ بے وقوف اور پاگل کہیں گے یا دانا سمجھیں گے۔حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا میرا جواب یہ ہے کہ اگر وہ لامتناہی سمندر میں سفر کر رہا ہے تو جہاں کنارہ سمجھ کے اتر او ہیں ڈوبا اور اچانک وہ سمجھ گیا۔جس مسئلے کا جواب اس کو دنیا میں کہیں نہیں ملا تھا وہ بے اختیار بول اٹھا کہ مسئلہ حل ہو گیا۔وہ صوفیوں کا ایک فرقہ ہے جو یہ کہتا ہے کہ جب خدا کو