خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 382
خطبات طاہر جلد 15 تعالیٰ کا حسن کارفرما ہے۔382 خطبہ جمعہ مورخہ 17 رمئی 1996ء اس مضمون کو بیان کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔چشم مست ہرحسیں ہر دم دکھاتی ہے تجھے ہاتھ ہے تیری طرف ہر گیسوئے خمدار کا یعنی ہمیں تو خوبصورت آنکھیں بھی تیری ہی طرف لے جاتی ہیں اور ان کی (در مشین: 10) زلفیں خمدار ہوں بھی تو ان کا ہاتھ تیری ہی طرف اٹھتا ہے۔یہ ساری نظر اسی مضمون کی مظہر ہے کہ کس طرح خدا کا حسن روشن ہو چکا ہے اور جگہ جگہ ذرے ذرے پہ روشن ہے اور جدھر بھی نظر ڈالو تمہیں خدا کی محبت کی راہیں دکھائی دیں گی لیکن پہلے یہ شعر تو پیدا کرو کہ حسن ہے کیا اور کس کا ہے۔اس مضمون میں جب تم داخل ہوتے ہو تو ہر قدم پر اذن اللہ کی ضرورت ہے۔اللہ کے اذن کے بغیرا گلا قدم اٹھانے کی توفیق نہیں۔ورنہ اس مضمون میں بھی ہر قدم پر وہ خطرات ہیں جن سے بچانے کے لئے آیت کے اس حصے کی ضرورت پڑتی ہے لَهُ مُعَقِّبت مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَ مِنْ امْرِ اللہ کیونکہ یہ مضمون بسا اوقات حقیقت سے مجاز کی طرف لے جاتا ہے اور انسان کو مجاز ہی میں غرق کر دیتا ہے اور جتنے قدم خدا کی طرف بڑھنے کے ہیں اتنی ہی ٹھوکریں اس راہ میں حائل ہیں۔ہر قدم پر ایک ٹھو کر بھی ہے اور آگے بڑھنے کے امکانات بھی ہیں۔تو جس کو سب کچھ دکھائی دے رہا ہے اس کی طرف کیوں نہ توجہ دی جائے۔لَهُ مُعَقِّبت اس کے پاس ایسے معقبات ہیں جو تمہاری حفاظت کر سکتے ہوں ، تمہارے آگے اور پیچھے چلیں تمہاری نیتوں پر نگران ہو جائیں۔مگر اگر اس سے مدد مانگتے ہوئے آگے بڑھو گے تو یہ نصیب ہوگا ورنہ نصیب نہیں ہو سکتا۔باقی جتنے دعوی کرتے ہیں سب جھوٹے ہیں کہ ہم نے تو خدا کی محبت کو پالیا ہے، ہم سمجھ گئے ہیں ، ہم نے قربانی خدا کی خاطر کر دی ایک آدھ دفعہ نیت صاف کر کے خدا کی خاطر چھپ کر ضرور ہوگی اور بسا اوقات انسان کو تو فیق ملتی ہے۔مگر ایک قدم ہی تو سفر کا نام نہیں۔خدا کی طرف سفر تو لا متناہی ذات کی طرف سفر ہے۔اس کا تو ہر قدم ایک مشکل قدم بھی ہے اور قدم بھی لا متناہی ہیں ، نہ ختم ہونے والے قدم ہیں۔تو ایک آدھ نیکی کر کے اس پر خوش ہو کے بیٹھ جانا اور یہ سمجھ لینا کہ ہم نے سب کچھ پالیا ، یہ انتہائی بے وقوفی ہے اور اس کے نتیجے میں جو کچھ