خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 373
خطبات طاہر جلد 15 373 خطبہ جمعہ مورخہ 17 رمئی 1996ء اس کی تقدیر سے ، اسی کے حکم سے حفاظت کر رہے ہیں۔ورنہ موت کی تقدیر بھی خدا ہی کی ہے زندگی کی تقدیر بھی خدا ہی کی ہے۔اس تعلق میں نیکی کو چھپ کر کرنا اور نیکی کو اعلانیہ کرنا یہ وہ مضمون ہے جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے روشنی ڈالی ہے اور بہت ہی گہری پر حکمت نصائح پر مشتمل مضمون ہے وہ میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔اس آیت کریمہ کے بہت سے پہلو ہیں بے شمار ایسے ہیں جن پر ایک وقت میں اکٹھے روشنی ڈالنا تو در کنار اس کا ذکر بھی ممکن نہیں ہے۔بہت ہی وسیع مضامین پر پھیلی ہوئی یہ آیات ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نیکی کے چھپانے اور نیکی کے ظاہر کرنے کے مضمون کو خصوصیت سے پیش نظر رکھا ہے۔فرماتے ہیں: پس مومنوں کو بھی دو ہی قسم کی زندگی بسر کرنے کا حکم ہے سراؤ عَلَانِيَةً (ابراہیم:32) (یادہ مخفی زندگی بسر کریں گے یا کھلی کھلی علامیہ زندگی ) بعض نیکیاں ایسی ہیں کہ وہ علانیہ کی جاویں اور اس سے غرض یہ ہے کہ تا اس کی وجہ سے دوسروں کو بھی تحریک ہو۔یعنی علانیہ نیکی میں ایک حکمت یہ ہے تا کہ لوگوں کو بھی تحریک ہو ورنہ مخفی نیکیاں ہر انسان کی ذات میں ڈوبی رہیں گی اور معاشرے میں عموماً نیکی میں آگے بڑھنے کی طرف توجہ پیدا نہیں ہوگی۔اس سے غرض یہ ہے کہ تا اس کی وجہ سے دوسروں کو بھی تحریک ہو اور وہ بھی کریں۔جماعت نماز ( یعنی با جماعت نماز ) علانیہ ہی ہے اور اس سے غرض یہی ہے کہ تا دوسروں کو بھی تحریک ہو اور وہ بھی پڑھیں اور میرا اس لئے کہ یہ مخلصین کی نشانی ہے جیسے تہجد کی نماز ہے۔یہاں تک بھی سرا نیکی کرنے والے ہوتے ہیں کہ ایک ہاتھ سے خیرات کریں اور دوسرے کو علم نہ ہو۔اس سے بڑھ کر اخلاص مند ملنا مشکل ہے ( کہ نیکی کو عدا اتنا چھپائے گویا اس کے وجود کے دوسرے حصے کو بھی اس نیکی کی خبر نہ ملے ) انسان میں یہ بھی ایک مرض ہے کہ وہ جو کچھ خرچ کرتا ہے وہ چاہتا ہے کہ لوگ بھی اسے سمجھیں۔لوگ بھی اس کو سمجھیں“ سے مراد یہ ہے کہ اس کے خرچ کے معاملات پر لوگوں کی بھی نظر