خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 374 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 374

خطبات طاہر جلد 15 374 خطبہ جمعہ مورخہ 17 رمئی 1996ء ہو۔سمجھیں کا مضمون یا تو کوئی غلط لکھا گیا ہے یا حضرت مسیح موعود لبعض دفعہ بعض الفاظ کو زیادہ وسیع معنوں میں استعمال فرماتے ہیں جو روز مرہ کے استعمال سے ہٹ کر ہوتا ہے۔جو الفاظ یہاں لکھے ہوئے ہیں یہی ہیں۔یہ بھی ایک مرض ہے کہ جو کچھ خرچ کرتا ہے وہ چاہتا ہے کہ لوگ بھی اسے سمجھیں۔شاید مراد یہ ہو کہ لوگ بھی اسے کچھ سمجھیں، اس کو عزت دیں، اس کو مرتبہ دیں۔مگر میں خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں یہ وہ اصل بات جس کی طرف توجہ دلانے کے لئے میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس عبارت کو چنا ہے۔آپ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو کیا توقع ہے اور آپ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کتنی گہری دلی رضامندی کا اظہار فرمایا ہے۔مگر میں خدا تعالیٰ کا شکر کرتا ہوں کہ میری جماعت میں ایسے بھی لوگ ہیں کہ جو بہت خرچ کرتے ہیں مگر اپنا نام تک ظاہر نہیں کرتے۔بعض آدمیوں نے مجھے کئی مرتبہ پارسل بھیجا ہے اور جب اسے کھولا ہے تو اندر سے سونے کا ٹکڑا نکلا ہے یا کوئی انگشتری نکلی ہے اور بھیجنے والے کا کوئی پتاہی نہیں۔کسی انسان کے اندر اس مرتبہ اور مقام کا پیدا ہونا چھوٹی سی بات نہیں اور نہ ہر شخص کو یہ مقام میسر آتا ہے۔یہ حالت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان کامل طور پر اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی صفات پر ایمان لاتا ہے اور اس کے ساتھ اسے ایک صافی تعلق پیدا ہوتا ہے۔دنیا اور اس کی چیزیں اس کی نظر میں فنا ہو جاتی ہیں۔(ملفوظات جلد 4 صفحہ 665) یہ ہے سدا کا مضمون جو بہت ہی گہرائی میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمایا ہے۔بسا اوقات انسان نیکی کرتا ہے اسے دکھاوے کا تو خیال نہیں ہوتا لیکن بالا رادہ اخفاء کا بھی کوئی طریق اختیار نہیں کرتا۔ایسے لوگوں پر کوئی حرف نہیں کیونکہ چھپانا بھی ایک زحمت ہے اور کوشش کر کے کسی چیز کو چھپانا کسی غیر معمولی ارادے کے بغیر پیدا نہیں ہوسکتا ورنہ یہ نارمل نہیں ہے یہ عام انسانی طریق نہیں ہے۔ایک انسان ریا سے پاک نیکی کرے اسے کوئی پرواہ نہیں ہوتی وہ دیکھتا ہے یا